بنگلہ دیشی طالبات کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے متحرک -
The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیشی طالبات کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے متحرک

ڈھاکہ: کم عمری کی شادیاں ترقی پذیر ممالک کا ایک عام رواج ہے تاہم یہ لڑکیوں اور ان کی آئندہ نسل پر نہایت خطرناک طبی اثرات مرتب کرتی ہے اسی لیے دنیا بھر میں اس عمل کی مذمت کی جاتی ہے۔

بنگلہ دیش میں بھی نو عمر طالبات کا ایک گروہ اس سماجی برائی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

گو کہ بنگلہ دیش میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے تاہم ملک بھر میں 65 فیصد لڑکیاں اس عمر سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں جبکہ 29 فیصد لڑکیاں 15 سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: افریقی ممالک میں کم عمری کی شادی غیر قانونی قرار

ان میں سے ایک تہائی لڑکیاں جن کی عمریں 15 سے 19 برس کے درمیان ہے، حاملہ ہوجاتی ہیں اور یہیں سے ماں اور بچے کے لیے تشویش ناک طبی خطرات سامنے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کم عمری کی شادیاں خواتین کے 70 فیصد طبی مسائل کی جڑ ہیں۔ کم عمری کی شادی کی وجہ سے لڑکیوں میں خون کی کمی اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔

کم عمری میں شادی ہوجانے والی 42 فیصد لڑکیاں 20 سال کی عمر سے قبل ہی حاملہ ہوجاتی ہیں جس کے بعد انہیں بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور پیدائش کے وقت بچوں کے وزن میں غیر معمولی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہی خطرات سے آگاہی کے لیے بنگلہ دیش میں اسکول کی کچھ کم عمر طالبات نے شورنوکشوری (سنہری لڑکیاں ۔ بنگلہ زبان کا لفظ) نامی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔

یہ تنظیم انفرادی طور پر نہ صرف کم عمری کی شادیوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں بلکہ وہ مختلف اسکولوں میں طالبات کو طبی معلومات و رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: نیپال میں ہندو پجاری کم عمری کی شادیوں کے خلاف ڈٹ گئے

اس تنظیم کی بانی لڑکیوں انیکا اور اویشکا کا کہنا ہے کہ ہماری کتابیں صحت سے متعلق آگاہی تو دیتی ہیں لیکن یہ زیادہ تر لڑکوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔ ’ہماری کتابوں میں کم عمری کی شادی اور اس سے ہونے والے خطرات کے بارے میں نہیں بتایا جاتا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکیوں کو ان کی صحت کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے تاکہ شادی کے بعد وہ اپنا اور اپنے بچے کا خیال رکھ سکیں۔

یہ تنظیم اب خاصی منظم ہوچکی ہے اور یہ ملک بھر کے 64 اسکولوں میں بچیوں کو ان کی صحت کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں