نئی دہلی: بنگلادیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات میں شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت میں معزول کیے جانے کے بعد، پہلی بار تھائی لینڈ میں جمعہ کو بمسٹیک سربراہی اجلاس کے موقع پر بنگلادیشی اور بھارتی رہنماؤں کی ملاقات ہوئی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلادیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی بھارت سے حوالگی پر تبادلہ خیال کیا، محمد یونس نے کہا کہ بھارت مفرور وزیر اعظم کو بنگلادیش کے حوالے کرے، بھارت میں موجود حسینہ واجد مستقل عبوری حکومت پر مسلسل غلط اور اشتعال انگیز الزامات لگا رہی ہیں۔
Chief Adviser Professor Muhammad Yunus and Indian Prime Minister @narendramodi join a bilateral meeting on the sidelines of sixth BIMSTEC Summit in Bangkok, Thailand on Friday. pic.twitter.com/Ig7OPcSYN0
— Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) April 4, 2025
مودی نے بنگلادیش کی کسی بھی جماعت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے بنگلادیش سے مثبت اور تعمیری تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ نریندری مودی نے حسینہ واجد کو بنگلادیش کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کی، جہاں سابق وزیر اعظم کو بڑے پیمانے پر قتل کے الزامات کا سامنا ہے، اور ان کی بھارت موجودگی سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔
بھارت میں متنازع وقف بل منظور، کانگریس کا بل کو چیلنج کرنے کا اعلان
محمد یونس کے پریس سیکریٹری شفیق العالم کے مطابق بنگلادیش نے دونوں رہنماؤں کے درمیان 40 منٹ کی ملاقات کو ’’انتہائی تعمیری اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا، جس میں باہمی دل چسپی کے امور پر بات کی گئی۔