The news is by your side.

چار صدیوں بعد برطانوی سامراج کا خاتمہ، ایک اور ملک آزاد ہوگیا

برائیڈٹاؤن : کریبین ریاست بارباڈوس چار سو سال بعد برطانیہ سے آزادی حاصل کرکے جمہوری ملک بن گیا جس کے بعد ملکہ برطانیہ الزبتھ بارباڈوس کی سربراہ نہیں رہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک اور ریاست نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرلی، جس کے بعد پہلی مرتبہ بارباڈوس کے نئے صدر کا انتخاب کیا گیا اور انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

صدر کا انتخاب منگل کے روز عمل آیاا، اس موقع پر عوام بڑی تعداد میں ہیروز اسکوائر پر منعقدہ شاندار تقریب آزادی میں موجود تھی اور مشترکہ طور پر قومی ترانہ پڑھ رہی تھی، اس دوران پر مختلف تقاریر بھی ہوئیں جب کہ سیندرا میسن نے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

واضح رہے کہ 400 سال قبل برطانیہ کا ایک بحری جہاز کیریبیئن جزیرے پر پہنچا تھا جس کے بعد سے بارباڈوس برطانیہ کی کالونی بن گیا تھا اور ملکہ الزبتھ اس کی سربراہ تھیں۔

بارباڈوس کی آزادی کے بعد ملکہ برطانیہ بارباڈوس کی سربراہ تو نہیں رہی تاہم اب ملکہ الزبتھ کے پاس 15 ریاستوں کی سربراہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بارباڈوس نے 1966 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی تاہم اس کی جانب سے ملکہ الزبتھ کو سرکاری خود مختار ہی رکھا تاہم آج ان کی جگہ منتخب ہونے والے صدر کو دے دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں