The news is by your side.

Advertisement

لندن : رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 20 فلیٹ جل کر خاکستر

لندن : فائر بریگیڈ عملے نے برطانوی دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں واقع رہائشی عمارت میں بھڑکنے والی خوفناک آگ پر قابو پالیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تفصیلات مطابق برطانوی دارالحکومت لندن کے مشرقی علاقے میں واقع چھ منزلہ رہائشی عمارت میں خوفناک آگ اٹھی جس کی وجہ سے 20 فلیٹ جل کر خاکستر ہوگئے، آگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کا سبب ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی لندن کے علاقے بارکنگ کی عمارت میں لگنے والی آگ نے عمارت کی تمام منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، آگ لگنے کے بعد متاثرہ عمارت اور ملحقہ اپارٹمنٹس کو لوگوں سے خالی کراکر اطراف کے راستے بند کر دئیے گئے تھے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیوں اور 100 فائر فائٹرز نے آگ بجھانے میں حصہ لیا، آگ لگنے کا سبب ابھی معلوم نہیں ہو سکا، تحقیقات جاری ہیں۔

متاثرہ عمارت کے رہائشی رچل مینڈیس کا کہنا ہے کہ ’آگ نے پوری عمارت کو کس قدر تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا تھا بیان نہیں کیا جاسکتا، ایسا لگتا ہے کہ جسے جہنم کی آگ ہو‘۔

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ ’حیرت میں مبتلا کردینے والی آگ بہت آسانی سے موت کا باعث بن سکتی تھی‘۔

لندن کے رکن پارلیمنٹ اینڈریو بوف جو متاثرہ عمارت کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں کا ٹوئیٹر پر کہنا تھا کہ آتشزدگی کے دوران کوئی فائر الارم نہیں بجا، کیا پاگل پن ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے باہر نکل کر دیکھا تھا کہ اس وقت صرف دو منزلیں آگ کی لپیٹ میں آئی تھیں لیکن کچھ دیر بعد پوری عمارت خوفناک آگ کی لپیٹ میں آگئی یقیناً لکڑی کی بالکونیوں میں کچھ ایسا تھا جو آگ کے تیزی سے پھیلنے کا باعث بنا۔

اینڈریو کا کہنا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ عمارت میں فائر الارم نہیں ہے یا پھر بلڈنگ کا فائر الارم کام نہیں کررہا تھا۔

مزید پڑھیں : لندن: عمارت میں ہولناک آتشزدگی، 1 خاتون ہلاک

خیال رہے کہ گذشتہ برس اپریل میں برطانوی دارالحکومت لندن کے شمال مغربی علاقے چنگ فورڈ میں معذور افراد کی تربیت کے لیے بنائی گئی عمارت میں لگنے والی آگ نے ایک خاتون کو جھلسا کر ہلاک کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں