site
stats
عالمی خبریں

حلب میں بمباری جائز تھی، شامی صدربشارالاسد

دمشق : حلب میں سیکڑوں بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کو بمباری کے ذریعے شہید کرنے کے بعد شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ حلب پر حملہ جائز تھا۔

یہ بات انہوں نے فرانسیسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، بشار الاسد کا کہنا تھا کہ شام کی سرکاری فوج نے گذشتہ ماہ حلب کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات یہ قیمت بھگتنا پڑتی ہے۔ لیکن انجامِ کار لوگوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے رہا کرا لیا گیا ہے۔

یہ پڑھیں: حلب کے مہاجرین کیمپوں میں بے بسی کی زندگی گزارنے پرمجبور

فرانسیسی میڈیا سے مزید بات کرتے ہوئے شامی صدر بشار الاسد نے مشرقی حلب میں ہونے والی تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کو ‘ہم شامیوں کے لیے تکلیف دہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر جنگ بری ہوتی ہے۔

تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان شہریوں کو باغیوں کے جبر تلے چھوڑ دینا بہتر تھا؟ حکومتی بمباری کے دوران باغیوں کے زیرِ قبضہ چند علاقوں میں ہزاروں شہری پھنس کر رہ گئے تھے۔ صدر نے کہا کہ یہ جنگ کے دوران اہم موڑ ہے اور ہم فتح کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آخری دنوں میں حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حلب میں جنگ سے متاثر بچے نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار

روس بھی شامی حکومت کے ساتھ مل کر 2015 سے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ برطانیہ میں قائم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حلب پر غلبے کی جھڑپوں میں گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے 21 ہزار عام شہری مارے گئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top