The news is by your side.

Advertisement

کنستانس دوم کا خواب اور تھیسالونیکی

جنگِ مستول (Battle of the Masts) وہ بحری جنگ تھی جس میں‌ مسلمانوں نے رومیوں کو بدترین شکست دی۔

اس جنگ میں‌ مسلمانوں کی قیادت مصر کے صوبہ دار حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ جب کہ بازنطینی سلطنت کے بحری بیڑے کی قیادت خود حاکمِ وقت کنستانس دوم کررہا تھا۔

655 عیسوی میں ایک جانب مسلمانوں‌ نے زمین کے راستے بازنطینی سلطنت کی طرف پیش قدمی شروع کی اور دوسری جانب حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ بحیرہ روم کے راستے بحری فوج کو لے کر روانہ ہوئے۔

کنستانس دوم نے اپنے عسکری ماہرین اور مشیروں سے صلاح مشورے کے بعد حکم دیا کہ پہلے سمندر کے راستے آنے والے مسلمانوں سے جنگ کی جائے اور بازنطینی بحری فوج کی قیادت وہ خود کرے گا۔

تاریخ کے اوراق میں‌ اس حوالے سے ایک قصّہ محفوظ ہے جس کے مطابق اس جنگ سے قبل کنستانس دوم نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں اس نے خود کو تھیسالونیکی (Thessaloniki) میں پایا جو یونان کا حصّہ ہے۔ بیدار ہونے پر جب اسے وہ خواب یاد آیا تو اس نے اس کی تعبیر جاننا ضروری سمجھا اور مختلف سماوی علوم اور نجوم کے ماہر کو طلب کیا۔ اس نے اپنے بادشاہ کو عجیب بات کہی اور ایک ایسے خدشے کا اظہار کیا جو گویا کنستانس دوم کے اعصاب پر سوار ہوگیا۔

بادشاہ کا خواب سن کر تعبیر بتانے والے نے سب سے پہلے کہا، “اے شہنشاہ! کاش کہ آپ اس رات سوئے ہی نہ ہوتے تو یہ خواب بھی نہ دیکھتے۔” بادشاہ کے استفسار پر اس نے بتایا کہ جیت مسلمانوں کی ہو گی۔ دراصل لفظ تھیسالونیکی کو جب توڑ کر لکھا جائے یعنی “تھیس-الو- نیکی” تو اس کا مطلب “دوسرے کو جیت دینا” بنتا تھا۔

مسلمان اور بازنطینی بحریہ کے مابین یہ جنگ ليكيا کے ساحل پر ہوئی اور کہتے ہیں کہ جنگ کے آغاز پر دونوں کے بحری بیڑے اتنے قریب تھے کہ ان کے مستول آپس میں ٹکرا رہے تھے۔ رومیوں کو مسلمانوں‌ کی فوج نے بھاری نقصان پہنچایا اور سمندری جہاز پر موجود قیصر کنستانس دوم کو اپنی جان بچانا مشکل نظر آنے لگا۔

مشہور ہے کہ کنستانس دوم نے اپنے کسی افسر سے وردی کا تبادلہ کیا اور وہاں سے نکل گیا۔

جنگِ مستول میں‌ جہاں‌ رومیوں‌ کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور شکست ان کا مقدر بنی، وہیں‌ سمندری حدود پر مسلمانوں کی برتری بھی قائم ہوگئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں