The news is by your side.

Advertisement

تحریکِ پاکستان: بیگم رعنا لیاقت علی خان کی زندگی اور خدمات پر ایک نظر

بیگم رعنا لیاقت علی خان تحریکِ پاکستان کی راہ نما اور وطنِ عزیز کے پہلے وزیرِاعظم قائد ملّت خان لیاقت علی خان کی رفیقِ حیات تھیں جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد ملک میں خواتین کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کے حوالے سے ناقابلِ فراموش اور یادگار خدمات انجام دیں۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان 1905ء میں الموڑہ میں پیدا ہوئیں اور لکھنو یونیورسٹی سے معاشیات اور عمرانیات میں ایم اے کے امتحانات پاس کیے۔ انھوں نے 1933ء میں اسلام قبول کیا اور نواب زادہ لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد لیاقت علی خان ملک کے وزیرِ اعظم بنے تو محترمہ رعنا لیاقت علی خان نے پاکستانی عورتوں کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے پہلے پاکستان وومن والنٹیئر سروس اور پھر آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) کی بنیاد ڈالی جس نے ہر شعبہ ہائے حیات کی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد انھوں نے بڑی ہمّت اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور خود کو وطنِ عزیز کے لیے خدمت کے لیے پیش کیے رکھا۔ انھیں 14 ستمبر 1954ء کو نیدر لینڈ میں پاکستان کی سفیر مقرر کیا گیا، بعد ازاں وہ اٹلی اور تیونس میں بھی پاکستان کی سفیر رہیں، محترمہ رعنا لیاقت علی خان کسی بھی ملک میں مقرر ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون سفیر تھیں۔

13 فروری 1973ء کو حکومتِ پاکستان نے انھیں صوبہ سندھ کا گورنر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی گورنر بننے والی پاکستان کی پہلی ہی نہیں‘ اب تک واحد خاتون ہیں۔ اس عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ہی وہ جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ کی چانسلر بھی بن گئیں اور اس طرح پاکستان میں جامعات کی پہلی خاتون چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان نے پاکستان اور بیرونِ پاکستان متعدد اعزازات بھی حاصل کیے جن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا انسانی حقوق کا ایوارڈ اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز سرفہرست ہیں۔

13 جون 1990ء کو بیگم رعنا لیاقت علی خان اس دنیا سے رخصت ہوگئیں جنھیں قائدِ اعظم کے مزار کے احاطے میں لیاقت علی خان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں