The news is by your side.

بیلاروس کے وزیر خارجہ ولادیمیر اچانک انتقال کر گئے

مِنسک: بیلاروس کے وزیر خارجہ ولادیمیر اچانک انتقال کر گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلاروس کے وزیر خارجہ ولادیمیر ماکی 64 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔

ولادیمیر ماکی کے انتقال کی خبر کی بیلاروس کی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے تاہم موت کی وجہ نہیں بتائی گئی، صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے وزیر خارجہ کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ولادیمیر 2012 سے وزارت خارجہ کے امور سنبھال رہے تھے۔

روئٹرز کے مطابق بیلاروس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ طویل عرصے سے وزیر خارجہ رہنے والے ولادیمیر ماکی اپنے روسی ہم منصب سے دو روز بعد ملاقات کرنے والے تھے، لیکن اس سے پہلے ہی اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔

ماکی نے اس ہفتے کے شروع میں یریوان میں کلیکٹیو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم) کی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی، یہ تنظیم سوویت یونین کے بعد کی کئی ریاستوں کا ایک فوجی اتحاد ہے، ماکی نے پیر کو روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کرنی تھی۔

بیلاروس میں 2020 میں صدارتی انتخابات اور بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں سے قبل، ولادیمیر ماکی مغرب کے ساتھ بیلاروس کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کرنے والوں میں سے ایک تھے، اور انھوں نے روس پر تنقید بھی کی۔ تاہم، ماکی نے مظاہروں کے آغاز کے بعد اچانک اپنا مؤقف بدل لیا، اور کہا کہ وہ مغرب کے ایجنٹوں سے متاثر ہو گئے تھے۔

فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے شروع ہونے کے بعد، ماسکو اور مِنسک کے درمیان قریبی تعلقات کے حامی ماکی نے کہا کہ مغرب نے جنگ کو ہوا دی ہے اور یوکرین کے حکام کو روس کی امن کی شرائط سے اتفاق کرنا چاہیے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ہم جمہوریہ بیلاروس کی وزارت خارجہ کے سربراہ ولادیمیر ماکی کی موت کی خبروں سے صدمے میں ہیں۔‘‘

دوسری طرف جلاوطن اپوزیشن لیڈر سویٹلانا تسخانوسکایا نے وزیر کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے ماکی کو بیلاروسی عوام کا غدار قرار دیا۔ انھوں نے کہا ’’2020 میں ماکی نے بیلاروسی عوام کے ساتھ غداری کی اور ظلم کا ساتھ دیا۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں