The news is by your side.

Advertisement

روس یوکرین جنگ؛ بیلا حدید بھی میدان میں آگئیں

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں معروف امریکی ماڈل بیلا حدید بھی میدان میں آگئیں اور انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سُپر ماڈل بیلا حدید نے انسٹا گرام پر اس حوالے سے متعدد اسٹوریز شیئر کی ہیں تاکہ اس جنگ سے متاثر ہونے والوں کے لیے آواز اٹھائی جا سکے۔

بیلال حدید نے اسٹوری شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”میرا دل یوکرین اور اس کے متاثر ہونے والے شہریوں کے لیے دُکھی ہے۔“

امریکی ماڈل اکثر سماجی مسائل پر اپنی آواز بلند کرتے رہتی ہیں۔ روسی صدر کے اقدامات کی مزید مذمت کرتے ہوئے بیلا حدید نے ولادیمیر پیوٹن کو دنیا کے لیے ”خطرہ“ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹن کے اقدامات دنیا کے ہر جمہوری ملک کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں روکا جانا چاہیے۔

بیلا حدید نے کہا کہ ”میں دعاگو ہوں، دوسرے ممالک یوکرینی شہریوں کو وہی فراہم کر سکتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہے، اور وہ ہے امن۔“

اس سے قبل سپر ماڈل بیلا حدید نے بھارت میں مسلم طالبات کے حجاب کرنے پر عائد پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

انسٹا گرام پر بیلا حدید نے بھارت میں حجاب پر پابندی سے متعلق ایک مضمون پوسٹ کیا تھا اور ساتھ ہی ایک طویل نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں فرانس، بھارت، کیوبک، بیلجیئم اور دنیا کے دیگر ممالک سے، جو مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں، درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے اقدامات پر نظر ثانی کریں، یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ خواتین کو بتائیں وہ کیا پہنیں کیا نہیں، خاص طور پر جب بات ان کے مذہب اور حفاظت کی ہو، خواتین کو یہ بتانا آپ کا کام نہیں کہ آیا وہ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں یا کھیل کھیل سکتی ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Bella 🦋 (@bellahadid)

بیلا حدید نے کہا تھا کہ فرانس میں باحجاب خواتین کو اسکول جانے، کھیل کھیلنے، تیراکی کرنے، یہاں تک کہ ان کی شناختی تصاویر پر بھی حجاب کرنے کی اجازت نہیں ہے، آپ حجاب کے ساتھ سول ورکر یا اسپتالوں میں کام نہیں کر سکتے، زیادہ تر یونیورسٹیوں میں انٹرن شپ حاصل کرنے کا واحد طریقہ حجاب اتارنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں