The news is by your side.

Advertisement

مہد سے لحد تک بے نظیر

 محترمہ بے نظیر بھٹو کاچھیاسٹھ واں یوم پیدائش آج انتہائی عقیدت احترام سے منایا جائے گا، اس سلسلے میں مرکزی تقریب نواب شاہ میں منعقد کی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی  سابق چیئر پرسن  اور دو بار پاکستان کی وزیر اعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کی سالگرہ  کے موقع پر  نواب شاہ میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب سے  بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے، اس کے علاوہ ملک بھرمیں پیپلز پارٹی کے دفاتر پر قرآن خوانی کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بے مثال لیڈر تھیں‘ آپ اکیس جون 1953 کو ذوالفقارعلی بھٹو اورنصرت بھٹو کے گھر پیدا ہوئیں۔

ابتدائی تعلیم کراچی، راولپنڈی اور مری میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم پہلے ہاورڈ اور پھر آکسفورڈ سے حاصل کی ، بے نظیر جب کبھی پاکستان ہوتی تو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شامل رہتیں۔

بھٹوکا جیل سے بے نظیرکو آخری خط

بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت سے اسمبلی کو برخاست کیا اور نئے الیکشن کروائے۔

 2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔

بے نظیر بھٹو کے بارے میں دلچسپ حقائق

سنہ  1993ء میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر، 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بے امنی اور بد عنوانی،کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے  باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

27دسمبر2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری عوامی جلسے سے خطاب کیا اس موقع پر عوام کی کثیرتعداد موجود تھی۔

خطاب کے بعد جلسہ گاہ سے باہر نکلتے ہوئے اپنے کارکنان سے اظہارِ یکجہتی کے لئے وہ گاڑی کی سن روف سے باہرنکلیں اور اس موقع پرایک نامعلوم شخص نے انہیں گولی کا نشانہ بنایا اوراس کے ساتھ ہی ان کی گاڑی سے محض چند قدم کے فاصلے پر ایک خود کش حملہ ہوا۔

بلاول بھٹوکا بے نظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت

بینظیربھٹوکو راولپنڈی جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ بینظیربھٹوکو لاڑکانہ کے سے ملحقہ علاقے نوڈیرومیں ان کے والد ذوالفقارعلی بھٹو کے مزار میں دفن کیا گیا تھا۔

اپنے ایامِ اسیری میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 21 جون 1978 کو اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کو سالگرہ کے موقع پر ’’میری سب سے زیادہ پیاری بیٹی ‘‘کے عنوان سے خط لکھا تھا۔

خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں تمہیں پیغام دیتا ہوں کہ صرف عوام پر یقین رکھو اور ان کی فلاح کے لیے کام کرو اور جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں