The news is by your side.

Advertisement

بیروت، جسے مشرقِ وسطیٰ کا پیرس کہہ سکتے ہیں!

بیروت، لبنان کا عظیم شہر اور اہم بندرگاہ ہے اور یہ وہ شہر ہے جس نے جنگ اور اس کے نتیجے میں خود کو کھنڈر بنتے دیکھا۔ بیروت کے باسیوں نے اپنے گلی کوچوں میں بارود کے دھماکے سنے، لاشیں اور عمارتوں کو ملبے میں تبدیل ہوتا دیکھا اور ایک بار پھر بیروت کی فضا سوگوار ہے۔

بیروت کی بندرگاہ پر گودام میں رکھے کیمیائی مادّہ کی وجہ سے ہونے والے دھماکے میں کئی افراد ہلاک اور 4 ہزار سے زیادہ کے زخمی ہیں۔

آئیے آپ کو جیتے جاگتے، سورج کے ساتھ آنکھ کھولتے اور شام ڈھلے تاریکی کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے بیروت کی وہ جھلک دکھاتے ہیں جس میں اس دھماکے سے پہلے زندگی تمام تر رعنائیوں‌ کے ساتھ سانس لے رہی تھی۔

لبنان ایک ایسا ملک ہے جہاں پسماندہ ملکوں کی طرح عوام پانی، بجلی، ٹریفک کے مسائل کو جھیلتے اور قانون کی بالادستی کو ترستے ہیں اور حکم رانوں سے ناخوش رہے ہیں، لیکن بیروت دنیا میں اپنی پہچان اور شناخت بہرحال رکھتا ہے۔

موسمِ گرما جہاں عرب ممالک تپنے لگتے ہیں، وہاں لبنان میں موسم کسی حد تک بہتر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں لبنان یا بیروت کے کھانے لذیذ اور یہاں‌ کے لیے لوگ ملن سار ہیں۔

بیروت وہ شہر ہے جس کے ایک جانب سرسبز پہاڑ ہیں تو دوسری طرف ایک طویل اور خوب صورت ساحل ہے جو سیاحوں‌ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ بیروت کو ملک کا سیاحتی مرکز کہہ سکتے ہیں۔

یہ بات شاید آپ کے لیے نئی ہو کہ بیروت کو مشرقِ وسطیٰ کا پیرس کہنا غلط نہ ہو گا جس کا سبب یہاں کے باسیوں کی آزاد خیالی، ان کا فیشن اور اسٹائل ہے جو انھیں‌ عرب دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔

بیروت شہر کی مشہور جگہ جمعزی اسٹریٹ اور پھر مونو اسٹریٹ ہیں جہاں محفلیں سجتی ہیں، تفریحی کلب اور ڈسکوز موجود ہیں۔ رات کے وقت یہاں کی سڑکیں‌ جاگتی ہیں۔

بیروت کے شمال اور جنوب کی طرف چلیے تو لبنان کے مشرقی ساحل کے ساتھ بے شمار منہگے ہوٹل اور ساحلی تفریح گاہیں ہیں۔ سمندر میں تیراکی کا انتظام ہے اور یوں لگتا ہے کہ آپ یورپ کے کسی شہر میں‌ موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں