The news is by your side.

Advertisement

یونانیوں اور مصریوں کی پرانی دستاویزات اور بھنبھور شہر

بھنبھور کی ایک شناخت سسّی پنوں کی رومانوی داستان بھی ہے۔ یہ قدیم شہر ساحل کے کنارے آباد تھا اور ماہرین کا خیال ہے کہ اپنے دور میں مشہور تجارتی مرکز اور اہم گزر گاہ رہا ہو گا۔

کراچی سے 60 کلومیٹر دور واقع بھنبھور کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے بعد مقامی اور غیر ملکی محققین نے یہاں سے ملنے والی اشیا اور اس مقام پر آثار سے معاشرت کا جو اندازہ لگایا، اس کی بنیاد پر بھنبھور کو ایک اہم ساحلی اور تجارتی شہر کہا گیا ہے جس میں‌ مختلف صنعتیں اور کارخانے موجود تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہاں پر پانچویں صدی عیسوی سے نویں صدی عیسوی تک کی آبادی کے نشانات بھی ملتے ہیں۔ یہ آبادی پکی گلیوں میں رہتی تھی جس میں مختلف کارخانوں اور کاری گروں کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں جانوروں کی ہڈیوں کی صنعت بھی تھی جس میں بڑے جانوروں کی ہڈیوں سے چوڑیاں، کنگھیاں اور مختلف زیورات بنائے جاتے تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس شہر میں‌ زرعی آلات بھی بنتے تھے اور تیّار کردہ منصوعات یہاں سے بڑے پیمانے دوسرے ملکوں میں لے جاکر فروخت کی جاتی تھیں۔

بھنبھور کا شمار دنیا کے قدیم شہروں میں کیا جاتا ہے۔ یونانی مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب سکندرِ اعظم اور اس کی فوج سندھ میں‌ داخل ہوئی تو اس وقت کراچی کے نزدیک ’’پاتال‘‘ نام کی بندرگاہ تھی جو اصل میں بھنبھور ہی تھا۔ بھنبھور کی بندر گاہ سے اقوام سامانِ تجارت بھیجا کرتی تھیں۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس شہر میں چار مختلف ادوار کی تہذیب و ثقافت کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور یہاں کی اشیا اور قلعہ بند بستی کے آثار سندھ کے قدیم حالات اور تجارت سے متعلق معلومات دیتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی مال و اسباب خشکی پر اونٹوں کے ذریعے اور آبی راستے سے بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے مصر کے آرسینو (سوئیز)، میوس، ہورموس یا بیرنس کی بندرگاہوں پر یہیں‌ سے بھیجا جاتا تھا۔ یہ ساز و سامان بعد میں صومالیہ کی بندرگاہ پہنچتا تھا اور وہاں سے آگے روانہ کیا جاتا تھا۔

بعض مؤرخین بھنبھور کو ہی دیبل کا شہر لکھتے ہیں۔ اس خیال کو تقویت اس وقت ملی جب کھدائی کے نتیجے میں قلعہ کی فصیل اور بستی کے آثار ملے۔ بنیادی طور پر بھنبھور وہ قدیم شہر ہے جس کا ذکر یونانیوں اور مصریوں کی پرانی دستاویزات میں بھی ملتا ہے۔ یونانیوں کی کتابوں میں بھنبھور کو ’’باربئیک‘‘ لکھا گیا ہے۔

بھنبھور شہر کی کھدائی کے بعد ماہرین نے دریافت کیا کہ اس کی عمارتوں کے آثار میں دیواریں غیر معمولی طور پر موٹی اور ان کی بنیادیں بہت گہری تھیں۔ یہ مکانات زیادہ تر کچی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے تھے۔ رہائشی علاقے الگ الگ اور انتہائی قرینے سے بنائے گئے تھے جن میں سڑکوں اور گلیوں کے لیے بھی باقاعدہ منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ مکانوں کے کھنڈرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی اونچائی دس سے بارہ فٹ تک رکھی جاتی تھی۔

بھنبھور شہر دو حصّوں میں منقسم نظر آتا ہے جس میں ایک حصہ 19 فٹ بلند قلعہ پر مشتمل تھا، اور اس کی تعمیر انتہائی خوب صورتی سے تراشیدہ بھاری پتھروں اور گارے سے کی گئی تھی۔ فصیل کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے مساوی فاصلوں پر بڑے بڑے برجوں اور بھاری بھرکم سنگی پشتوں کے استعمال کے آثار بھی ملتے ہیں۔ اسی میں ایک جھیل بھی تھی جو یہاں کے باسیوں کی پانی کی ضرورت پوری کرتی ہو گی۔

شہر کا دوسرا بڑا حصّہ فصیل کی دیوار سے باہر کی طرف پھیلا ہوا ہے اور تمام رہائشی علاقہ ہے۔ کھدائی کے دوران یہاں مشرقی ٹیلوں کے دامن میں ایک قبرستان اور میٹھے پانی کے چشموں کے علاوہ چند کنوؤں کے آثار بھی دریافت ہوئے۔

بھنبھور کے قدیم آثار کا تحقیقی مطالعہ 1930ء میں کیا گیا تھا اور اس حوالے سے رپورٹ کے بعد ہنری کزنس نے بھنبھور کا دورہ کیا تھا جہاں سے مصفا برتنوں کے ٹکڑے اور سکّے ملنے پر بعد میں مختلف مقامات پر کھدائی کروائی گئی تھی اور ماہرین نے بتایا تھا کہ یہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل کی کسی بستی کے آثار نظر نہیں آتے۔

بھنبھور میں 1958 سے 1962ء تک دوبارہ کھدائی کا سلسلہ جاری رہا اور تب وہاں ایک قلعہ بند بستی کے آثار دریافت ہوئے۔ مزید کام جاری رہنے پر وہاں ایسے آثار ملے جو پہلی صدی قبل مسیح سے تیرھویں صدی عیسوی تک کے عہد سے تعلق رکھتے تھے۔ کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیا کا مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین نے بتایا کہ اس شہر میں چار مختلف تہذیبی و ثقافتی ادوار نے سانس لی۔ مٹی کے منقش سفید برتن اور بھاری نیلے و سبز روغنی برتن اموی دورِ حکومت اور ایسے برتن بھی ملے جن میں سے بعض پر مٹی کا لیپ اور بعض پر چمکیلے سیسے کا صیقل جڑا ہوا ہے عباسی دور کی نشانی ہیں۔

یہاں سے ملنے والی اشیا اور چند کمروں کی دیواروں پر دھویں کی وجہ سے پھیلی سیاہی بتاتی ہے کہ اس بستی میں کوئی کارخانہ، بھٹی یا صنعت بھی رہی ہوگی۔ بھنبھور کے قلعہ میں تقریباً ایک مربع اراضی پر بنی مسجد کے کھنڈرات بھی دریافت ہوئے تھے۔

مسجد کے شمال مشرقی گوشے میں نمازیوں کے لیے وضو کے لیے چبوترا بھی بنا ہوا تھا جس پر چونے سے موٹا پلستر کیا گیا ہے۔ یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں تانبے اور چاندی کے سکّے بھی ملے جو زیادہ تر ساسانی حکم رانوں، بغداد کےخلفاء اور ان کے گورنروں کے نام پر جاری کردہ تھے۔ ایک طلائی سکّہ عباسی خلیفہ ابو جعفر ہارون الواثق باللہ کے عہدِ حکومت کا ہے۔

بھنبھور سے برآمد اشیا میں انگوٹھیاں، جڑاؤ زیورات، مختلف ناپ کے منکے اور آویزے شامل ہیں۔ قیمتی نگوں کے زیورات، سرمے کی سلائیاں اور چوڑیاں، عطر کی شیشیاں، لمبی گردن والی بوتلیں، گلدان، شمعدان، چائے یا قہوہ پینے کی پیالیاں اور آب خورے بھی اس مقام سے نکالے گئے تھے۔

دوسری جانب بھنبھور سے سسی پنوں کی جو عشقیہ داستان جڑی ہے، وہ قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں