The news is by your side.

Advertisement

ظلم اور سختیاں جھیل کر حالات کا مقابلہ کرنے والی باہمت شازیہ

کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والی باہمت خاتون شازیہ ظہور کی زندگی ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے جنہوں نے ظلم و تشدد اور سختیاں جھیل کر بھی ہمت نہیں ہاری اور حالات کا مقابلہ کرتی رہیں۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے مارننگ شو گڈ مارننگ پاکستان میں شازیہ ظہور نامی خاتون شریک ہوئیں جنہوں نے اپنے عزم و حوصلے کی داستان سنائی۔

شازیہ نے بتایا کہ ان کی کم عمری میں شادی ہوگئی تھی جس کے بعد وہ کراچی سے لاہور چلی گئیں، وہ ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ وقت تھا۔

شازیہ کے مطابق ان کے سسرال والوں نے انہیں بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ ان کے کئی حمل بھی ضائع کروائے۔ ان کے یہاں قبل از وقت (پری میچور) 2 جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تو انہیں ان کے سسرال والوں نے دفنانے کے بجائے کچرے میں پھینک دیا۔

اس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر پہ تھیں جب حاملہ ہوئیں، تب انہیں سسرال والوں کی جانب سے کہا گیا کہ اس حمل کو ضائع کروا دیا جائے ورنہ وہ طلاق بھجوا دیں گے، جس پر ان کے والد نے حتمی فیصلہ کرلیا اور ان کی اس اذیت ناک رشتے سے جان چھڑا دی۔

بعد ازاں وہ ملازمت کرنے لگیں، وہ بائیک پر جیولری ڈیلیور کرنے کا کام کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے بیٹے کو بھی پک اینڈ ڈراپ کرتی ہیں جبکہ بیٹے کی ٹیچر کو بھی پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

شازیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ملازمت سے اپنے لیے گھر بھی تعمیر کرلیا ہے جو ان کے سر چھپانے کا ٹھکانہ ہے۔ وہ لڑکیوں کو بائیک چلانے کی ٹریننگ بھی دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ان کے بھائیوں نے ان کی بائیک چلانے کی مخالفت کی لیکن ان کے والد نے ان کا ساتھ دیا اور کہا کہ ہم ایک بار اس کی زندگی کا فیصلہ کرچکے ہیں جو نہایت بھیانک تھا، اب وہ خود ہی اپنی زندگی کا فیصلہ کرے گی۔

شازیہ نے نوجوان لڑکیوں کو پیغام دیا کہ وہ کسی پر بھی انحصار کرنے کے بجائے خود اپنا بوجھ اٹھائیں اور محنت کرنے سے کبھی بھی نہ شرمائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں