لاہور: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کے قریب پہنچ گئی ہے، اور جلد ہی پورے نیٹ ورک کو توڑ دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ایم پی اے بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کیس کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک جیو فینسنگ کی مدد سے ڈیڑھ لاکھ موبائل نمبرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق انویسٹیگیشن پولیس نے 520 مشتبہ نمبرز شارٹ لسٹ کر لیے، موہنی روڈ اور گرد و نواح سے 50 سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی گئی ہیں، پولیس نے کیمروں کے ڈی وی آرز فرانزک آڈٹ کے لیے بھجوا دیے۔
بلال یاسین معاملہ: سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ عابد باکسر کا کیا تعلق ہے؟
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا جانے اور وہاں سے فرار ہونے کا ڈیجیٹل میپ تیار کر لیا گیا ہے، اور اب تک 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
شوٹرز کو اسلحہ فراہم کرنے والے افضل پٹھان کا بیان بھی قلم بند کر لیا گیا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قریب ہیں اور جلد پورا نیٹ ورک بریک کر لیا جائے گا۔