The news is by your side.

Advertisement

جے وی اوپل کیس: تسلی بخش جواب نہ دینے پر بلاول بھٹو کو 2 ہفتے کا وقت دے دیا گیا

راولپنڈی : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نیب کے دفتر میں پوچھے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو قومی احتساب بیورو راولپنڈی کے دفتر میں پوچھے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ دینے پر انھیں 32 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کو سوالات کے جوابات جمع کرانے کے لیے 2 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ نیب نے بلاول بھٹو کو جے وی اوپل کیس میں طلب کیا تھا اور زرداری گروپ آف کمپنی کا 2008 سے 2019 تک کا تمام ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نیب کی جانب سے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بھی فہرست مانگی گئی تھی۔

سینیٹرمصطفی نوازکھوکھر کا کہنا ہے کہ نیب کےہراساں کرنےکےباوجودبلاول قانون کی پاسداری کےخواہاں ہیں، مہنگائی کیخلاف احتجاج کےاعلان پرایک ہفتے میں نیب نےنوٹس بھیجا ، جب بھی بلاول بھٹوحکومت پرتنقیدکرتےہیں نیب نوٹس بھیج دیتاہے۔

ترجمان نے کہا کہ  سپریم کورٹ پہلےہی کہہ چکی ہےکہ بلاول بھٹوبےقصورہیں، چیف جسٹس نےبھری عدالت میں بلاول بھٹو کو معصوم قراردیا، بلاول کومعصوم قراردینے کے باوجود نیب کانوٹس بھیجناسیاسی انتقام ہے۔

مزید پڑھیں : بلاول بھٹو کی13 فروری کو نیب میں طلبی، زرداری کمپنی کا ریکارڈ لانے کی ہدایت

گذشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ مجھ ےانتقام کانشانہ بنانےکی مذمت پرسپریم کورٹ بارکابیان قابل ستائش ہے، ایک سال پہلےچیف جسٹس نےمعصوم قرار دیا پھر بھی  انتقام کاسلسلہ جاری ہے، انتقامی رویہ عوام دشمن حکومتی پالیسیوں کی مخالفت سے باز نہیں رکھ سکتا۔

خیال رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جے وی اوپل میں 25 فی صد شیئر ہولڈر ہیں، نیب ذرایع کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو پر اپنی ذاتی کمپنی کے لئے 1.22بلین روپے جعلی اکاونٹ سے نکلوانے کا الزام ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی چیئرمین پیپلز پارٹی کو جے وی اوپل کیس کی انکوائری کے سلسلے میں کئی بار طلب کر چکی ہے ، بلاول بھٹو نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ بچہ تھا مگر آڈٹ رپورٹ میں ان کے دستخط موجود ہیں۔

واضح رہے کہ چئیرمین نیب نے انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی ، بلاول بھٹو کو چوتھی مرتبہ طلب کیا گیا ہے جبکہ وہ اس کیس میں صرف ایک بار پیش ہوئے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں