The news is by your side.

Advertisement

کارکنوں کو رہا نہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی انتہائی قدم اٹھائے گی: بلاول

پیپلز پارٹی کا نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ  نیب میں پیش ہونا  کوئی نئی بات نہیں ہے، میں اپنی والدہ کے ہمراہ عدالت آتا رہا ہوں اور اب پہلی بار از خود پیش ہوا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری آج نیب میں اپنے والد کے ہمراہ پیشی پر اپنا ردعمل دے رہے تھے ، ان کا کہنا ہے کہ  میں ایک سال کا بھی نہیں تھا  جب اس کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا، میر ا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،  نیب کا نوٹس پیر کے روز ملا تھا۔

اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نےکہا کہ پیپلزپارٹی کے ورکرز کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں کہ پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے باوجودکارکن پرامن رہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی احتجاج کی کال نہیں دی تھی، جب ظلم ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی کے کارکن آواز اٹھاتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ  یہ اسی پارٹی کی حکومت ہےجنہوں نےاسلام آبادکو2سودن یرغمال رکھا،آج یہ حکومت پیپلزپارٹی کےکارکنوں کو30منٹ برداشت نہیں کرسکی ۔ جمہوریت میں احتجاج عوام کا حق ہوتا ہے ، اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہوں۔

پارک لین کمپنی کیس: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے بیان ریکارڈ کرادیا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نےکہاتھا کہ بلاول بھٹوبےگناہ ہیں،ان کانام کیوں ڈالاگیا،چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ بلاول کانام جےآئی ٹی سے نکالاجائے،مگر عدالت کےکہنےکےباوجودمیرانام نہیں نکالاگیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئر مین  کا کہنا تھا کہ کراچی کی بینکنگ کورٹ میں کیس چل رہاتھا،پتا نہیں کیوں منتقل کیاگیا۔یہ کیس نیب کابنتا ہی نہیں، یہ بینک اکاؤنٹس کےمعاملات ہیں، افسوس کی بات ہےنیب کواس طرح سے استعمال کیاجاتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا تھا۔ نیب کی ایک تاریخ ہے جو کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔نیب زدہ لوگوں کوڈرایاگیاکہ حکومت کاساتھ دویامقدمات کاسامناکرو۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی جائے ۔نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عملدرآمد کرایاجائے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ مطالبہ ہے کالعدم تنظیموں کیخلاف حکومت کارروائی کرے۔

پاکستان میں یکساں قانون چاہتے ہیں۔راولپنڈی ہی ہمارے لئے پلیٹ فارم بن جاتاہے،جونیب سےخوش تھے وہ بھی ان کےشکاربن گئے۔

آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر پیپلز پارٹی  انتہائی قدم اٹھائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ تمام تر لیگل راستے اختیار کیے جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں