site
stats
سندھ

قیام امن کیلئے جدید سہولیات سے استفادہ کیا جائے، بلاول بھٹو زرداری

کراچی : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سندھ پر زور دیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو ایک محفوظ شہر بنانے کے لیے عام لوگوں کو اپنی شکایات اور معلومات باآسانی پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالاجی استعمال کی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری کو آج بلاول ہاوٴس میں ہونے والی میٹنگ میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، میٹنگ میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ،وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ نے شرکت کی۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ پولیس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور کراچی کے باسیوں اور باہر سے یہاں آنے والے افرادکے لیے محفوظ شہر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالاجی اور کمیونیکیشن استعمال کی جائے،عام لوگوں کی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں تک بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی اور ڈی آئی جی سطح تک لوگوں کے لیے کھلے دروازے والی پالیسی اپنائی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ ہر پندرہ دن پر میڈیا کو امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دیں اور عوام کو صوبائی حکومت کی جانب سے شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

قبل ازیں میٹنگ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ نے امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ حالیہ امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا کے واقعات کو چھوڑ کر اس سے پہلے صورتحال کافی بہتر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دیہات اور شہروں میں سنگین نوعیت کے جرائم اغوا برائے تاوان کا ریشو زیرو ہوگیا ہے،سندھ پولیس نے سانحہ سفورا، شکارپور اور جیکب آباد بم دھماکوں کے کیسز میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا ہے،اویس شاہ کے اغوا اور امجد صابری کے قتل کے واقعات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور رابطوں سے تفتیش جاری ہے۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے سندھ پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی کارکردگی کو سرہاتے ہوئے زور دیا کہ امن کو تباہ کرنے والے ریاست دشمن عناصر اور مجرموں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام سرکاری مشینری کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top