The news is by your side.

Advertisement

صدارتی نظام پاکستان کے لئے نقصان دہ اور غیر جمہوری ہوگا: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز  پارٹی بلاول بھٹو  زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں امپائر صرف ایک ہے اور  وہ عوام ہیں.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکستان بار کونسل کی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ آج بہت سارے مسائل پر تفصیلی بحث ہوئی، عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن اہم کردار ادا کر رہی ہے، بار کونسل کے مسائل کو مل کر حل کرسکتے ہیں.

ملک میں صرف ایک امپائر ہے اور وہ عوام ہیں

بلاول بھٹو زرداری

انھوں نے کہا کہ جمہوریت اور پاکستان میں عوام کی مرضی چلتی ہے، کسی تھرڈ امپائر کی نہیں، صدارتی نظام، 18 ویں ترمیم ختم کرنے کی بات غیر جمہوری ہے، صدارتی نظام پاکستان کے لئے نقصان دہ اور  غیر جمہوری ہوگا، صدارتی نظام کی سازش پیپلزپارٹی ناکام بنائے گی، ملکی مسائل حل کرنے کے لئے پارلیمانی نظام ضروری ہے.

انھوں نے کہا کہ نیب کالا قانون اور مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے، جسے پولیٹیکل انجینئرنگ اور سیاسی مفادات کے لئے بنایا گیا، احتساب بلاتفریق ہونا چاہیے، سب کے لئے ایک قانون ہونا چاہیے، اس وقت شائد نیا سسٹم لانا مشکل ہوگا، حکومت سسٹم ٹھیک کرنا چاہے، تو ہم ساتھ دیں گے، مگر حکومت یوٹرن لیتی ہے، اب تک ایک بل پاس نہیں ہوا، حکومت کو ملک ،پارلیمنٹ اور معیشت چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں. ریفرنڈم لانا کی باتیں غیرقانونی ہیں ایسی تجاویز نہیں دینی چاہیے.

انھوں نے کہا کہ جمہوریت کا دفاع، انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے، جمہوریت کو خطرہ ہوا تو اس کا مل کر دفاع کریں گے، سی پیک پی پی نے شروع کیا اور ن لیگ اُسے آگے لے کر چلی، امید کرتے ہیں کہ خان صاحب سی پیک کو آگے لے کر جائیں گے، سی پیک پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے، یہ عوام کے لیے اہم منصوبہ ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں