The news is by your side.

Advertisement

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر مستعفی ہوں، گرفتاری کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے، بلاول بھٹو

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی اسپیکر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے بولنے دینگے، آج بھی وعدہ کیا گیا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

قومی اسمبلی کے دوسرےسیشن میں بھی بات نہیں کرنے دی گئی، ڈپٹی اسپیکر حکومتی ارکان کی ہدایت پر ایوان چلارہے ہوتے ہیں، لہٰذا اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب کوئی اشارہ کیا جاتا ہے تو اسپیکر اٹھ جاتا ہے اور بیٹھ جاتا ہے ،جب سابق وزیر داخلہ کوئی چٹ پیش کرتا ہے تو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اٹھ جاتا ہے

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی پر اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے کر بھی تشدد کا نشانہ بنایا، پہلے میں سمجھتا تھا پولیس ملوث ہے لیکن اس میں حکومت بھی ملوث ہے۔

حکومت کا یہ رویہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، ہمارے سندھ اسمبلی کے اسپیکر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ، اس وقت بھی چادر اورچاردیواری کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو رکان اسمبلی بھی حراست میں ہیں، اسپیکر کو خط لکھا تھا ان ارکان کو پوچھے بغیر گرفتارکیا گیا ہے، اسپیکر سے وزیرستان کے ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈرزکا مطالبہ کیا تھا، ہم چاہتے ہیں محسن داوڑ اورعلی وزیرکا فیئرٹرائل ہونا چاہیے، چاہتے ہیں کہ محسن داوڑاور علی وزیر بھی اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔

ایسے اقدامات تو ہم نے مشرف کی قومی اسمبلی میں بھی نہیں دیکھے تھے، نیب اور باقی ادارےارکان اسمبلی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ارکان اسمبلی کو کسی نہ کسی طریقے سے گرفتار کیا جارہا ہے، ہر شخص کو فیئر ٹرائل کاحق ہے، حکومت جمہوری حق پرحملے کررہی ہے، سندھ اسمبلی کے اسپیکرکے گھرپر حملہ کیا گیا، اس وقت ان کے خواتین اور بچے گھر میں تھے۔

بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ نیب اور باقی ادارے ارکان اسمبلی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ارکان اسمبلی کو کسی نہ کسی بہانے سے گرفتار کیا جارہا ہے، ہرشخص کو فیئر ٹرائل کا حق ہے.

حکومت جمہوری حق پرحملے کررہی ہے، ارکان اسمبلی فلور پر گفتگو کرتے ہیں تو اسے بھی سنسر کیا جاتا ہے، یہ حکومت سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ میڈیا چاہتی ہے، اب کہا جارہا ہے کہ عدلیہ پر جو حملے ہورہے ہیں اس پر بات نہ کریں، کسی جمہوری ملک میں ایسےاقدامات نہیں ہوتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں