The news is by your side.

Advertisement

کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وزیروں کو بھی نکالنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وزیروں کو بھی نکالنا ہوگا، اسد عمر کو نکال کر زرداری کے وزیر خزانہ کو لگا لیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے حکومت کو متنبہ کیا کہ جن وزیروں کے کالعدم تنظیم سے رابطے ہیں انہیں اب حکومت کو ہر صورت نکالنا پڑے گا، میں نے جو بات کی وہ پاکستان کے مفاد میں کی ہے، ملک کے غریب عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے انگریزی میں جواب دیا اور میرے مؤقف کی تائید کی تھی، میری غیر موجودگی میں ایک اور صاحب نے تقریر کی تھی اور میرے لئے ملک دشمن کا لفظ استعمال کیا گیا، میری ذات پر حملہ کیا گیا، یہ نامناسب طرز عمل ہے اگر کوئی وزیر موجود نہیں تو اس پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ ہاؤس کی توہین ہے جب کوئی ممبرموجود نہیں تو اس کے خلاف بات ہو، شہید بینظیر بھٹو کو بھی ملک دشمن قراردیا گیا اور سیکیورٹی رسک قراردیا گیا تھا۔

بلاول بھٹو کا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کی گالم گلوچ یا نیب گردی سے ہم دب جائیں گے تو یہ ممکن نہیں، جب ہم ضیاء، مشرف اور ایوب جیسے آمروں سے نہیں ڈرے تو یہ کیا چیز ہیں، ہم حکومت کی عوام اور معیشت دشمن پالیسیوں، دھاندلی، چوری اور جھوٹ کو بےنقاب کرتے رہیں گے۔

بلاول بھٹو نے وزیر اعظم کا نام لے کر کہا کہ آپ نے اسد عمر کو نکال کر کسے رکھا؟ آصف زرداری دور کے وزیرخزانہ کو؟ بتائیں تو سہی آپ نے ہمارے وزیرخزانہ اسد عمر کو کیوں نکالا؟ کیا میں سچ کہہ رہا تھا کہ ان میں صلاحیت نہیں تھی؟

دس سال سے کہہ رہے ہیں کہ جو معیشت کو نقصان ہوا وہ ہماری وجہ سے ہوا، بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہمارےبیچارے فواد بھائی کو کیوں نکالا؟ وزیروں کو نکالنے سے ہمارے وزیراعظم اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کو وزیرداخلہ بنادیا گیا جس پر سنگین الزامات ہیں، ایک آنکھ سے دیکھو تو حکومتی صفوں میں پی پی کے لوگ نظر آتے ہیں، ہمارا وزیراعظم نااہل ہے، اگر کسی کو فارغ کرنا ہے تو وزیراعظم کو باہر بھیجیں۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران شور شرابہ شروع ہو گیا، حکومتی ارکان نے بینچوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا جس کے بعد اپوزیشن اراکین بھی حکومتی بینچوں کے سامنے آگئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں