The news is by your side.

’عالمی برادری سے پوچھتا ہوں بھارت میں اقلیتوں کے قتل عام پر وہ کیا کر رہی ہے؟‘

نیویارک: وزیر خارجہ پاکستان بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری سے سوال کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کا قتل عام دنیا کے سامنے ہونے کے باوجود وہ کیوں کچھ نہیں کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو نے نیویارک میں بدھ کو اقلیتوں کے حقوق کے ڈیکلیئریشن پر اجلاس سے خطاب میں کہا ’’میں عالمی برادری سے پوچھتا ہوں بھارت میں اقلیتوں کے قتل عام پر وہ کیا کر رہی ہے؟‘

انھوں نے کہا بھارت کے اندر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کے سامنے ہے، جہاں مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارت ہندوتوا نظریے پر عمل پیرا ہے اور اقلیتیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا دنیا کو اقلیتوں سے امتیازی سلوک جیسے مسائل کا سامنا ہے، بھارت میں آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کو فروغ اور اس کے ذریعے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، میں عالمی برادری سے پوچھتا ہوں بھارتی مظالم پر وہ کیا کر رہی ہے؟

بلاول بھٹو نے کہا بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کا آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کے اقدامات کر رہا ہے، عالمی برادری بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

انھوں نے کہا اسلاموفوبیا بھی آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے، دنیا کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس

قبل ازیں، یو این جنرل اسمبلی سائیڈ لائن پر جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق او آئی سی کی رپورٹ پر مفصل غور ہوا۔

اجلاس کے بعد او آئی سی کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر شرکا کو اعتماد میں لیا، اور مؤقف دہرایا کہ حق خود ارادیت کشمیریوں کے بنیادی، یو این قراردادوں کے مطابق تسلیم شدہ حق ہے، اور کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق، آزاد استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

او آئی سی رابطہ گروپ نے کشمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی مذمت کی، اور قرار دیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا چارٹر، اور سلامتی کونسل کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔

او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل دینے کے فیصلے کو مسترد کیا، اور مطالبہ کیا کہ بھارت فوری طور پر 5 اگست 2019 کے تمام اقدامات واپس لے، اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کے اقدامات فوری روکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں