The news is by your side.

Advertisement

بلاول بھٹو نےتھر کی بڑی ترقی کا کریڈٹ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دے دیا

آج شہیدبینظیربھٹوکاخواب حقیقت بن گیا،آصفہ بھٹو

تھرپارکر: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نےتھر کی بڑی ترقی کا کریڈٹ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دے دیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کو تھر میں ترقی پر مبارک باد دی جبکہ آصفہ بھٹو کا کہنا ہے آج شہیدبینظیربھٹوکاخواب حقیقت بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نےتھر کی بڑی ترقی کا کریڈٹ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دیتے ہوئے کہا ان کا دیکھا خواب آج شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔

بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تھر میں ترقی پرمبارک باد دی۔

پی پی چیئرمین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا 10 اپریل 1986 میں بے نظیربھٹو پاکستان واپس آئیں، وقت کے آمر کو چیلنج کیا، بے نظیربھٹو کا تاریخی استقبال کیاگیا، کسی بھی سیاسی لیڈر کا یہ سب سے شانداراستقبال تھا، لاہورکی گلیوں اورسڑکوں پر30لاکھ عوام جمع ہوئے، یقیناً بےنظیربھٹوجیساکوئی نہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر میں 330 میگا واٹ بجلی گھر کا افتتاح کیا، جس کے بعد تھرکول فیلڈ بلاک 2 کا دورہ کیا اوراوپن پٹ مائن کا معائنہ کیا، چیئرمین پیپلز پارٹی کوکوئلہ کے معیار کی کان کنی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین نے اپنےموبائل سےکان کنی کی تصاویر بنائیں جبکہ مزدوروں سے ملاقات اورکامیابی پر مبارکباد دی۔

ایک اور ٹوئٹ میں انھوں نے کہا میں نے ابھی تھرکول پاورپلانٹ کا افتتاح کیا ہے، یہ پاکستان میں انسان کابنایا سب سے اونچا اسٹرکچرہے۔

دوسری جانب آصفہ بھٹو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا آج شہیدبینظیربھٹوکاخواب حقیقت بن گیا، تھرکول پاورپلانٹ نےنیشنل گرڈکو660میگاواٹ بجلی شروع کردی۔

خیال رہے کہ تھر سے حاصل شدہ کوئلے سے بجلی بنانے کا کام اپریل 2016 میں شروع کیا گیا تھا، گزشتہ ماہ 19 تاریخ سے تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی اور 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کردی گئی۔

مزید پڑھیں : بلاول بھٹو نے پہلے تھر کول پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا

تھر میں مدفون کوئلے کی مقدار 175 ارب ٹن ہے اور ان ذخائر میں موجود توانائی پاکستان کے گیس کے مجموعی ذخائر سے 68 گنا زیادہ ہے، اس کی مالیت اندازاً پچیس کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس وقت پاکستان میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگا واٹ ہے تاہم ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے ایک وقت میں 21 ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی کی ترسیل ممکن نہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تھر میں موجود کوئلے کی مدد سے اگلے 200 سال تک ماہانہ ایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ تاحال سندھ حکومت تھر کول کی رائلٹی تھر پر خرچ کرنے کی پالیسی وضع نہ کرسکی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں