The news is by your side.

Advertisement

مچھلیاں جان بچانے کے لیے خشکی پر رہنے لگیں

سڈنی: آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بلینی فش کہلانے والی چھوٹی مچھلیاں بڑی شکاری مچھلیوں سے اپنی جان بچانے کے لیے پانی سے خشکی پر آنے لگی ہیں۔

گزشتہ چند سال سے سائنسدان یہ مشاہدہ کررہے تھے کہ جنوبی بحرالکاہل کے علاقوں میں پائی جانے والی چھوٹی ’’بلینی فش‘‘ کی چار اقسام نے پانی کے علاوہ خشکی پر رہنا بھی سیکھ لیا ہے اور کئی بار انہیں بڑی تعداد میں جزائر کی ساحلی زمین پر آرام کرتے ہوئے دیکھا جاچکا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ آخر ان میں یہ صلاحیت حاصل کرنے کی وجہ کیا ہے۔


سمندر میں بلاؤں کی کہانیاں سچ نکلیں


 اب آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف نیوساؤتھ ویلز کے ماہرِین ماحولیات نے انکشاف کیا ہے کہ مچھلیوں کے اس طرح ساحلی زمین پر آنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سمندر میں موجود بڑی شکاری مچھلیوں سے اپنی جان بچانا چاہتی ہیں۔ ماہرین نے اس دریافت کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’امریکن نیچرلسٹ‘‘ میں شائع کروائی ہیں۔


دنیا کی قدیم جھیل صنعتی ترقی کا خراج ادا کرنے پر مجبور


 مچھلیوں میں یہ ارتقائی تبدیلی بہت اہم ہے کیونکہ اس کی بدولت وہ ’’جل تھلیوں‘‘ (amphibians) یعنی ایسے جانوروں کے قریب تر آگئی ہیں جو بیک وقت پانی میں اور خشکی پر رہ سکتے ہیں۔ البتہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ اگر چھوٹی مچھلیوں کو بڑی شکاری مچھلیوں سے جان بچانا اتنا ہی ضروری محسوس ہوا تو کیا وجہ ہے کہ آخر صرف بلینی فش ہی کی چند اقسام نے ارتقائی طور پر خود کو بدلا ہے۔

واضح رہے کہ خشکی پر رہنے والے جانوروں کی طرح مچھلیوں میں پھیپھڑے نہیں ہوتے بلکہ گلپھڑے ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ پانی میں موجود آکسیجن جذب کرکے سانس لیتی ہیں لیکن اگر وہ خشکی پر آجائیں تو ہوا میں سانس نہیں لے پاتیں اور چند ہی منٹوں میں مرجاتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں