The news is by your side.

Advertisement

بلین ٹری سونامی سے متعلق نیب اور محکمہ فارسٹ کی رپورٹ میں تضاد ہے: ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب

پشاور: بلین ٹری سونامی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے نیب سے کہا کہ اکتوبر سے ہم اس کیس کو سن رہے ہیں لیکن ابھی تک آپ لوگوں نے ایک رپورٹ بھی جمع نہیں کرائی۔

تفصیلات کے مطابق آج پشاور ہائی کورٹ میں مالم جبہ، بلین ٹری سونامی اور بینک آف خیبر انکوائری سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس ارشد علی نے شروع کی، تو ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عظیم داد، پراسیکیوٹر نیب محمد علی، محکمہ جنگلات حکام اور درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عظیم داد نے عدالت کو بتایا کہ ہم رپورٹ تیار کر رہے ہیں، اس کے لیے مزید وقت دیا جائے، اگلی سماعت پر رپورٹ جمع کر دیں گے۔ اس پر جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اکتوبر سے اس کیس کو سماعت کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک آپ لوگوں نے ایک بھی رپورٹ جمع نہیں کرائی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ بلین ٹری سونامی سے متعلق نیب اور محکمہ فارسٹ کی رپورٹس میں کچھ تضاد ہے، 27 اضلاع ہیں اور 5 ہزار 600 سائٹس ہیں، ان کی نشان دہی پر بھی وقت لگے گا، کرونا وبا کی وجہ سے بھی کام رک گیا تھا، ابھی اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے آفس اسٹاف کے ویکسینیشن کا عمل جاری ہے، اور آفسز بند ہیں، جس کی وجہ سے رپورٹ تیار کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔

اس پر جسٹس روح الامین نے کہا کہ کرونا 2019 میں آیا تھا، اور ختم ہو گیا ہے، دیکھیں آج آپ نے بھی ماسک نہیں پہنا، اب آپ یہ نہ کہیں کہ کرونا کی وجہ سے اسٹاف نے جنگل میں درختوں کو نہیں گنا، ہمیں یہ بتا دیں کہ کتنے درخت جل گئے، کتنے پودے لوگوں نے خراب کیے اور ابھی کتنے درخت جنگل میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا نیب اور محکمہ جنگلات کی رپورٹ میں جو تضاد ہے اس کو بالائے طاق رکھ کر ہمیں رپورٹ پیش کر دیں، ہمیں پتا ہے کہ آپ لوگوں کی مجیوریاں کیا ہیں، اور یہ تضاد کیوں ہے، آپ دیکھیں کہ ملاکنڈ کے پہاڑوں پر لاچی کے کتنے درخت لگائے گئے، اس پر درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی نے عدالت کو بتایا کہ پانی کی کمی کا مسئلہ ہے لیکن پھر بھی یہ لاچی کے درخت لگا رہے ہیں، لاچی پانی زیادہ جذب کرتا ہے، اگر یہ لاچی کے پودے لگائیں گے تو اس سے پانی کا مسئلہ اور بھی بڑھے گا۔

جسٹس روح الامین نے نیب پراسیکیوٹر نے استفسار کیا کہ اس کیس میں کتنے انوسٹیگیشن افسران ہیں، ڈپٹی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس کیس میں 3 انوسٹیگیشن افسران ہیں، جسٹس روح الامین نے کہا کہ ان میں ہر ایک کو 9 اضلاع دے دیں، وہ جائیں اور خود دیکھیں اور رپورٹ تیار کریں تو جلد یہ کام ہو جائے گا۔

جسٹس روح الامین نے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ مالم جبہ کیس کا کیا ہوا، اس پر درخواست گزار وکیل علی گوہر درانی نے بتایا کہ مالم جبہ انکوائری کو نیب نے اس عدالت کے آرڈر کا سہارا لے کر بند کیا ہے، عدالت نے انکوائری بند کرنے کا نہیں کہا لیکن نیب نے وہ انکوائری بند کر دی ہے، عدالت نے مالم جبہ انکوائری رپورٹ بھی طلب کی ہے جو ابھی تک جمع نہیں کی گئی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عظیم داد نے عدالت کو بتایا کہ 75 ایکڑ زمین پر فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور ٹورزم میں مسئلہ چل رہا تھا، اس پر جسٹس روح الامین نے کہا کہ اس بات کو چھوڑ دیں کہ محکموں کے درمیان کیا تھا، آپ یہ بتا دیں کہ نیب اس کیس میں کیا کر رہا تھا، یہ زمین کس کو الاٹ کی گئی ہے اور کیسے الاٹ کی گئی، اس کی رپورٹ ہمیں دیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا ہمیں مزید تھوڑا وقت دیا جائے تو ہم رپورٹ پیش کر دیں گے، ڈپٹی پراسیکیوٹر عظیم داد کی جانب سے رپورٹ جمع کرنے کے لیے مزید وقت مانگنے کی استدعا عدالت نے منظور کر لی اور نیب سے مالم جبہ، بلین ٹری سونامی اور بینک آف خیبر انکوائری سے متعلق رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت 15 مارچ تک ملتوی کر دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں