site
stats
ماحولیات

بلین ٹری سونامی: خیبر پختونخواہ کا منفرد اعزاز

پشاور: عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ واحد صوبہ ہے جہاں وسیع پیمانے پر شجر کاری کے ذریعے 35 لاکھ ایکڑ جنگلات کو بحال کیا گیا ہے۔

حال ہی میں آئی یو سی این کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے پر کامیاب عملدر آمد کے بعد خیبر پختونخواہ کا شمار دنیا کے ان علاقوں میں ہونے لگا ہے جس نے عالمی معاہدے ’بون چیلنج‘ کو پورا کرتے ہوئے 35 لاکھ ایکڑ زمین پر جنگلات قائم کیے۔

یاد رہے کہ بون چیلنج ایک عالمی معاہدہ ہے جس کے تحت دنیا کے درجنوں ممالک سنہ 2020 تک 15 کروڑ ایکڑ رقبے پر جنگلات میں اضافہ کریں گے۔

آئی یو سی این نے خیبر پختونخواہ حکومت کو اس اہم سنگ میل کی تکمیل پر مبارک باد بھی دی۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں جاری شجر کاری کی مہم ’بلین ٹری سونامی‘ کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں مجموعی طور پر ایک ارب درخت لگائے جانے تھے اور رپورٹ کے مطابق اب تک 94 کروڑ درخت کامیابی سے لگائے جاچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ تکمیل کے قریب

اب تک متعدد عالمی اداروں بشمول آئی یو سی این اور عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کی نگرانی کی جاچکی ہے اور اسے کامیاب قرار دیا جاچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا تیز رفتار ترین منصوبہ ہے اور پوری دنیا میں 3 سال کے عرصے میں کسی بھی ملک نے شجر کاری کا اتنا بڑا ہدف حاصل نہیں کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top