site
stats
پاکستان

ملک ریاض کا اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق کے بغیر بن قاسم پارک لینے سے انکار

کراچی: بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ ہم عوامی سہولت کے لئے پارک کی حالت بہتر کرنے کی ذمہ داری لے رہے تھے، کوئی کچرے میں ہی خوش ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے.

تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ باغ ابن قاسم کو عالمی معیار کاپارک بنانا چارہے تھے، میں اس معاملے کو متنازع بنانا نہیں چاہتا ہوں. کچھ لوگوں کو ہمارے کام سے تکلیف ہے،جب تک سب میں اتفاق نہ ہوجائے میں یہ پارک نہیں لوں گا، ہم عوامی سہولت کے لئے پارک کی حالت بہتر کرنے کی ذمہ داری لے رہے تھے، یہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز اب جب تک درخواست نہیں کریں گے پارک نہیں بناؤں گا،عوام کی بھلائی کےلئے پیسہ خرچ کرنا چاہ رہے ہیں،کوئی کچرے میں ہی خوش ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہمیں جو علاقہ صفائی کےلئے دیا گیا ہم نے وہاں کام کردیا.

ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ میری خواہش ہے کہ شہر کے تمام پارکس کو بہتر کیا جائے،میئرکراچی کو بتایا تھاپارک میں کمرشل یاسیاسی سرگرمی نہیں ہوگی۔

صوبائی حکومت کا موقف


واضح رہے کہ باغ ابن قاسم کے حوالے سے آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر بلدیات جام خان شورو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی چیز کراچی میں بننے جارہی ہے.

پارک 10 سال کےلئے عوام کی سہولت کے لئے دیاگیا ہے، پارک ابن قاسم دینےسے عوام کو مفت سہولت ملےگی، پارک کی حالت زار بہتر کرنےاورویلفیئر کے لئے دیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا اختلاف


دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کےاہم رہنما فیصل سبزواری نے سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کےساتھ نا انصافی ہورہی ہے،سندھ حکومت اختیارا ت دینے پر آمادہ نہیں ہے،سندھ حکومت نے 2013 میں لوکل گورنمنٹ کا قانون پاس کیا.

انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کے وزیروں نے اپنے ہی کارکنوں کو نوکریاں فروخت کی ہیں.

خیال رہے کہ سندھ حکومت نے کراچی کے مئیر وسیم اختر کو مطلع کیے بغیر ابن قاسم پارک کو بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض کئے حوالے کردیا تھا، جس پر مئیر کراچی نے صوبائی حکومت سے شکوہ کیا ہے.

qaeem-park

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top