The news is by your side.

Advertisement

روس نے یوکرین میں خطرناک جراثیم تیار کرنے والی لیبز سے متعلق دستاویز پیش کر دی

ماسکو: روس نے یوکرین میں خطرناک جراثیم تیار کرنے والی لیبز سے متعلق دستاویز پیش کر دی۔

تفصیلات کے مطابق یوکرین میں بائیولوجیکل ریسرچ لیبز کی دستاویز منظر عام پر آگئی، امریکا اور اتحادیوں کی ریسرچ لیبز کی دستاویز روس سامنے لایا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یوکرین میں واقع امریکی فنڈ سے چلنے والی بائیولوجیکل لیبز چمگادڑوں کے کرونا وائرس کے نمونوں کے تجربات کر رہی ہیں۔

امریکی حکام بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ یوکرین ‘حیاتیاتی تحقیق کی لیبز’ کی میزبانی کر رہا ہے، ان خدشات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ یہ لیباٹریاں روسی افواج کے کنٹرول میں آ سکتی ہیں۔

روس یوکرین تنازع: ترک صدر نے دنیا کو آئینہ دکھا دیا

وزارت کے چیف ترجمان دفاعی میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق، امریکی فریق نے 2022 کے لیے یوکرین میں پرندوں، چمگادڑوں اور رینگنے والے جانوروں کے پیتھوجینز پر کام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس میں افریقی سوائن فیور اور اینتھراکس لے جانے کے امکان کا مطالعہ بھی شامل تھا۔

ان لیبارٹریوں میں اس کے علاوہ اُن جنگلی پرندوں کے ذریعے پیتھوجینز کے ممکنہ پھیلاؤ پر بھی تجربات جاری تھے، جو روس یوکرین اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان ہجرت کرتے رہتے ہیں۔

چیف ترجمان نے بتایا کہ ان تجربات اور یوکرین میں پینٹاگون کی مالی اعانت سے چلنے والی دیگر حیاتیاتی ریسرچز کا مقصد یہ تھا کہ مہلک جراثیم کے خفیہ پھیلاؤ کے لیے ایک طریقہ کار بنایا جائے۔

کوناشینکوف نے کہا کہ روسی وزارت دفاع جلد ہی یوکرینی حیاتیاتی تجربہ گاہوں کے عملے سے موصول ہونے والی دستاویزات کے ساتھ ساتھ ان کی جانچ کے نتائج بھی شائع کرے گی۔ واضح رہے کہ روسی مسلح افواج کے تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی دفاع کے سربراہ ایگور کریلوف کے مطابق، 7 مارچ کو، روسی مسلح افواج نے یوکرین میں 30 حیاتیاتی مرکبات برآمد کیے تھے، جو ممکنہ طور پر بائیو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں