The news is by your side.

Advertisement

چین، رواں سال شرح پیدائش میں آٹھ فیصد اضافہ

بیجنگ : چین میں پچھلے سال کی نسبت شرحِ پیدائش میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے، شرح پیدائش میں اضافہ ایک سے زائد بچے کی پیدائش پر لگائی گئی پابندی کو اُٹھانے کے بعد دیکھنے میں آیا۔

یہ تفصیلات چین کے ادارہ برائے قومی صحت اور فیملی پلاننگ کمیشن نے حالیہ سروے رپورٹ میں بتائی جس کے مطابق چین میں 2016 میں پیدا ہونے والوں بچوں کی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ تھی جو کہ 2015 میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد سے آٹھ فیصد زیادہ ہے۔

سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال 45 فی صد ایسے گھرانوں میں بچوں کی پیدائش ہوئی جو پہلے سے صاحب اولاد تھے یعنی ان گھرانوں نے ایک سے زائد بچے پیدا کرنے کی پابندی ہٹانے کے فیصلے بعد اپنی خاندان میں نئے فرد کا اضافہ کیا۔

ادراہ قومی صحت اور فیملی پلاننگ کے یانگ وین ژوانگ نے بتایا کہ ایک زائد بچوں کی پیدائش پر پابندی ہٹانے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جس کی روشنی میں امید کی جا سکتی ہے کہ 2020 تک ہر سال ایک کروڑ 70 لاکھ سے دو کروڑ تک بچے پیدا ہوں گے۔

دوسری جانب قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق سال 2016 میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ بچے پیدا ہوئے جب کہ 2050 تک ملک میں تقریباٌ تین کروڑ افراد کام کرنے کی عمر تک پہنچ گئے ہوں گے یعنی ملک کو زیادہ افرادی قوت میئسر ہو گی اور غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یاد رہے رہے کہ جنوری 2016 میں چین کی حکومت نے چالیس سال سے قائم ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک زائد بچوں کی پیدائش پر پابندی ہٹا لی تھی تاہم والدین کو دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے حکومت سے اجازت نامہ کے حصول کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں