The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کو فائرنگ کر کے ’بھگانے‘ والی بھارتی سیاستدان پر مقدمہ قائم

نئی دہلی: دنیا بھر کو خوف و دہشت میں مبتلا کردینے والے کرونا وائرس کے حوالے سے بھارتی سیاستدان سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں، کرونا وائرس کے خلاف مارچ اور نعروں کے بعد ایک اور سیاستدان کی ہوائی فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئی جن کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارت میں اتوار کی شب وزیر اعظم نریند مودی کی اپیل پر کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اظہار یکجہتی کے طور پر 9 بجے 9 منٹ تک موم بتیاں روشن کی گئیں۔

ایسے موقع پر جہاں عوام کی بڑی تعداد اور فنکاروں نے طبی عملے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا وہیں سیاستدان عجیب و غریب حرکتیں دکھائی دیے۔

ریاست اتر پردیش کے ضلع بالرام پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاستدان اس موقع پر ہوائی فائرنگ کر کے کرونا وائرس کو بھگاتی ہوئی نظر آئیں۔

منجو تیواڑی بی جے پی کے خواتین ونگ کی ضلعی صدر ہیں جنہوں نے اپنی ہوائی فائرنگ کی ویڈیو خود ہی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی اور جب اس پر شدید تنقید کی گئی تو پھر خود ہی اسے ڈیلیٹ کردیا،ویڈیو میں ان کے قریب کھڑے لوگ بھی تالیاں بجاتے اور ہنستے دکھائی دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی جے پی کے ہی کئی رہنماؤں نے ان کے خلاف پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد مقامی پولیس حرکت میں آئی اور خاتون سیاستدان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا، اس حوالے سے ایڈیشنل ایس پی اروند مشرا کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔

بعد ازاں  منجو تیواڑی نے اپنی حرکت پر معذرت طلب کرلی، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس رات شمعوں اور مشعلوں کی وجہ سے دیوالی جیسا ماحول پیدا ہوگیا تھا چنانچہ انہوں نے بھی خوشی سے بے قابو ہو کر ہوائی فائرنگ کر ڈالی، انہوں نے کہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتی ہیں اور اس پر معذرت کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بی جے پی کے ایک سیاستدان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جو اسی رات اپنے سپورٹرز کے ساتھ مشعلیں لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور کرونا وائرس کے خلاف باقاعدہ مارچ کیا، اس دوران وہ اور ان کے حامی ’گو بیک چائنیز وائرس‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں