The news is by your side.

Advertisement

ایک اجلی صبح کا خواب دیکھنے والا امریکی سیاہ فام!

سیاہ فام مارٹن لوتھر کنگ کو دنیا ایک عظیم راہ نما اور انسانی حقوق کا علم بردار مانتی ہے۔

امریکا کی جنوبی ریاست جارجیا کے ایک سیاہ فام پادری کے گھر آنکھ کھولنے والے مارٹن لوتھر کنگ کو نفرت کے ایک پرچارک نے قتل کردیا، لیکن ان کی فکر آج بھی زندہ ہے اور زمین پر بسنے والے اربوں انسانوں کو دوستی، مساوات، بھائی چارہ، مدد اور تعاون کے لیے آمادہ کرتی اور روشن راستوں پر مل کر آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ نے افریقی امریکی شہریوں کے حقوق کی شان دار اور پُرامن مہم چلائی اور امریکا میں شہریوں کے مساوی حقوق کے عظیم راہ نما بن کر ابھرے۔

ان دنوں امریکا میں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد احتجاج اور پُرتشدد مظاہرے ہورہے ہیں جو دنیا بھر میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی شہ سرخیوں میں‌ ہیں۔

امریکا میں سیاہ فاموں کی تاریخ چار سو سال پر محیط ہے جب کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصب اور قتل و غارت گری کا سلسلہ بھی دہائیوں سے جاری ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ عدم تشدد کا فلسفہ سامنے رکھتے ہوئے نسلی تفریق کے خاتمے کی کوشش کی اور ان کی جدوجہد نے حقوق کے راستے میں کئی سنگِ میل طے کیے۔

مارٹن لوتھر کنگ کی ایک تقریر دنیا بھر میں مشہور ہے اور اسے شان دار خطاب اور عظیم تقریر شمار کیا جاتا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے یہ تقریر 28 اگست 1963 کو کی تھی۔

اس تقریر کا یہ ٹکڑا دنیا بھر میں سنا اور پڑھا گیا اور ان کی تقریر کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔

’’میرا اک خواب ہے کہ جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پر ایک دن سفید فام آقاؤں اور سیاہ فام غلاموں کے وارث ایک دوسرے سے معانقہ کریں۔

میرا اک خواب ہے کہ میرے بچے اپنے رنگ کے بجائے اپنے کردار کے سبب پہچانے جائیں۔۔۔۔‘‘

اس تقریر میں مارٹن لوتھر نے نسلی تعصب پر مبنی امتیازی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جو امریکا کی مختلف ریاستوں میں‌ نافذ تھے جن کے تحت سیاہ فام غلام شہریت اور بنیادی حقوق سے محروم تھے۔ اس شان دار تقریر کو I have a dream کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں