لاہور ڈیفنس میں دھماکہ‘ آٹھ جاں بحق 21 زخمی -
The news is by your side.

Advertisement

لاہور ڈیفنس میں دھماکہ‘ آٹھ جاں بحق 21 زخمی

لاہور: ڈیفنس کے علاقے میں ریستوران میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ‘ جبکہ 21 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب گلبرگ دھماکے کی اطلاعات کو رسیکیو 1122 نے افواہ قراردے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز جمعرات لاہور کےعلاقے ڈیفنس زیڈ بلاک میں واقع ریستوران میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد کے جاں بحق ہوئے ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ریستوران کے ملازمین ہیں جبکہ بیشتر کی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسکیو جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور میتیوں اور زخمیوں کو قریب ہی واقع نیشنل اسپتال اور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا  ہے۔

وزیراعظم کی مذمت


وزیراعظم نوازشریف نے لاہور دھماکےمیں جانی نقصان پراظہارافسوس کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کوبہترین طبی سہولتیں دی جائیں۔

وزیراعظم نے لاہور دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افرادکےایصال ثواب اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی‘ اورسوگوارخاندانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے صبرجمیل طلب کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی مذمت


وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

گلبرگ میں دھماکہ افواہ ہے‘ ریسکیو انچارج


لاہورکے علاقے گلبرگ میں دھماکے کی اطلاعات افواہ نکلیں ‘ ریسکیوانچارج پنجاب نے تصدیق کردی ہے‘ دوسری جانب وزیرِ قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تفتیش کی جائے گی کہ پولیس کے ذریعے میڈیا تک غلط اطلاع کیسے پہنچی۔

لاہور ڈیفنس کے بعد گلبرگ کے علاقے میں بھی ایک اورزورداردھماکے کی آواز سنی گئی ہے‘ دھماکہ مین بولیوارڈ کے نزدیک یہ دھماکہ ہوا ہے‘ ذرائع کے مطابق متعدد افرادزخمی ہیں جنہیں گنگا رام اور سروسز اسپتال منتقل کیا جارہاہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ غیر ملکی ریستوران کے پاس ہوا ہے اسی علاقے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی رہائش گاہ کے نزدیک دھماکہ ہوا ہے۔

ریسکیواورقانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیورٹی کو انتہائی سخت کردیا گیا ہے جبکہ تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ بم کا تھا‘ ڈی آئی جی آپریشن


ڈی آئی جی آپریشن حید اشرف نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہ ہے کہ ابتدائی تحقیق سے لگتا ہے کہ بم نصب کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کی نئی لہر جاری ہے ‘ 11 دنوں میں یہ دوسرا دھماکہ ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو کیفر َ کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

شاید کسی تعمیراتی میٹریل سے دھماکہ ہوا‘ صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ


صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریستوران میں تعمیراتی کام جاری تھا۔ شاید کوئی ایسا میٹریل وہاں موجود تھا جس سے دھماکہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے موجود ہیں اور اپنا کام کررہے ہیں۔ انوسٹی گیشن جاری ہے ‘ فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی۔

رانا ثںا اللہ نے تصدیق کی کہ دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

زخمیوں کی جان بچانا پہلی ترجیح ہے‘ صوبائی وزیرِصحت


پنجاب کے صوبائی وزیرصحت سلمان رفیق نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ جنریٹر کے پھٹنے سے ہوا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ زیادہ تر زخمیوں کو لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پہلی ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرکے ان کی جان بچانا ہے۔

دھماکے کے نتیجے میں نہ صرف ریستوران بلکہ پوری عمارت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ارد گرد موجود عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس حکام نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ہے۔ تاحال دھماکے کی نوعیت واضح نہیں کی گئی ہے۔

صوبائی وزیرصحت سلمان رفیق نے جائے وقوعہ اور جنرل اسپتال کا دورہ بھی کیا ہے۔

پاک فوج پہنچ گئی


پاک فوج کے جوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اورعلاقے کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔ فوج کے جوانوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد کی تلاش بھی شروع کردی ہے۔

دھماکہ ڈیفنس کے زیڈ بلاک میں ہوا ہے اور فوج کے جوانوں نے دور دورتک علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

آپریشن ردُالفَساد


یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک بھر میں پاک فوج نے آپریشن ’ردُالفساد‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اوراس کے نتیجے میں ملک بھر سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

دہشت گردی کی تازہ لہر


پاکستان ایک با رپھر دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کررہا ہے جس کے نتیجے میں ایک مہینے میں دوسری بار لاہور کو نشانہ بنایا گیا ہے اس سے قبل 13 فروری کو لاہور کے علاقے مال روڈ پر ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اس دھماکے کے دو روز بعد 16 فروری کو سندھ کے شہر سیہون میں واقع حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر عین دھمال کے دوران خود کش حملہ کیا گیا جس میں 94 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

انہی دنوں میں ملک کے دیگر صوبوں میں دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا اور کوئٹہ‘ پشاور چارسدہ سمیت کئی شہروں میں دھماکے ہوئے جن میں متعدد افراد شہید ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ ان دنوں دبئی میں جاری ہے جس کا فائنل پانچ مارچ کو لاہور میں ہونا ہے‘ دو دن قبل پی سی بی نے ٹیم مالکان کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کیا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں