The news is by your side.

Advertisement

وہیل کے پیٹ کی غلاظت 51 کروڑ روپے سے زائد میں فروخت

کیا آپ نے ایسا خوش قسمت مچھیرا دیکھا جو مچھلیاں پکڑنے جائے مگر مچھلی کے پیٹ کی غلاظت لے کر آئے اور پھر امیر ہوجائے۔

ایسے واقعات شاز و نادر ہی پیش آتے ہیں کیونکہ پہلے تو سمندر کسی کا دوست نہیں اور دوسرا کسی ماہی گیر کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ ایسی چیزیں تلاش کرے جس سے اُس کی قسمت بدل جائے۔

مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خوش قسمت شکاری مچھلی کے انتظار میں رہتے ہیں مگر اُن کے ہاتھ ایسی کوئی نایاب چیز لگ جاتی ہے جس سے اُن کے پھر وارے نہارے ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح حال ہی میں ایک غریب ماہی گیر بڑے پیمانے پر شکار کے لیے سمندر میں گئے تو اُن کی نظر ایک عجیب و غریب چیز پر پڑی۔

انہوں نے وہ چیز اٹھائی اور پھر کشتی میں ڈال کر اُسے ساحل تک لے آئے۔ ماہی گیر کو اس بات کا علم تھا کہ انہیں جو چیز سمندر سے ملی وہ قیمتی اور نایاب ہے۔

ساحل پر آنے کے بعد ماہی گیر نے اعلان کیا کہ انہیں ’وہیل کی قے‘ بڑی مقدار میں ملی ہے۔ یہ سننے کے بعد خریدار وہاں پہنچے اور بولی کا عمل شروع ہوا۔

وہیل کی قے 24 لاکھ پاؤنڈز میں فروخت ہوئی جو پاکستانی کرنسی کے اعتبار سے 51 کروڑ 7 لاکھ 89 ہزار 378 روپے کے قریب بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مچھیرے کو وہیل کا جو بلب ملا وہ اب تک ملنے والا سب سے بڑا ٹکڑا ہے۔ اس کو خوشبو یا پرفیوم بنانے والی کمپنیاں خریدتی ہیں تاکہ وہ اپنے پرفیومز میں اسے استعمال کرسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں