The news is by your side.

Advertisement

قلم سے کلام: جو سوچا بھی نہیں تھا آج وہ عام ہے 

تحریر: عدنان انور

جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اپنے بزرگوں اور بڑوں کو کوئی اچھوتی یا کوئی ایسی ویسی بات کرتے سنتے اور دیکھتے تو وہ ہم بچوں کو فورا وہاں سے بھگایا کرتے کہ جیسے وہ کوئی نازیبا گفتگو کررہے ہوں اور ہم نہ سن لیں

گزرتے وقت کیساتھ جیسے جیسے شعور آتا گیا تو اپنے بزرگوں کا بھگانا بھی ہمیں سمجھ میں آگیا پورے محلے یا علاقے میں کہی بھی کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت یا بات ہوجاتی تو ہر ممکن کوشش ہوتی کہ یہ بات کسی بھی طرح بچوں کے کانوں تک نہ پہنچے مبادا کہی انکے اذہان پر بھی غلط اثرنہ پڑے اور معاشرتی و مجموعی طور پر یہ اک بڑی اچھی بات ہوتی تھی برائی کا چھپایا جانا ۔تاہم گزرنے وقت کیساتھ اور سنہ نوے کی دہائی کے بعد توجیسے وقت کو پر لگ ہوں اور پھر ٹیکنالوجی کا دور کیا آیا اچھے برے کی تمیز بڑے چھوٹے کاادب اور شرم نام جیسی چیزیں تو معاشرے سے بالکل ہی غائب ہوگئی گالی گفتار سے بات چیت کا آغاز کرنا گلی کے کونوں کوچوں پر کھڑے نوجوانوں کا غیرمہذبانہ انداز۔پہلے ہم اپنے بڑوں و بزرگوں کو دورسے دیکھ کر ہی بھاگ نکلتے تھے کہ کہیں وہ دیکھ کر گھر پر شکایت نہ کردیں اور فری میں پٹائی نہ ہوجائے-

مگر اب تو بڑوں و بزرگوں کو اپنی عزت بچانے کے لئے خاموشی سے کنارا کرکے نکلنا پڑتا ہِیں-جبکہ پردہ تو ایسا ہوگیا ہے کہ پردہ جسے عام طورپر ناموس کی عزت کےلئے سختی کے ساتھ استمعال کرایا جاتا تھا مگر لگتا ہیں اب پردے نے بھی اپنی جگہ تبدیل کرتے ہوئے آنکھوں میں جگہ بنالی ہیں ارے بھئی کہنے کا مطلب ہے کہ آنکھوں پر جو پڑگیا ہیں-اسکے آگے کچھ نظر نہیں آتا جوبھی نظرآتاہے بے پردہ ہی نظر آتاہیں دوپٹہ یا روپٹہ جو پہلے سر پر رکھا جاتا تھا اب تو یہ سارے معاملات دیکھ کر بالکل ہی غاَئب ہوگیا ہے۔

اخلاقی انحطاط  کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے بچوں کے علاوہ اپنے بھائی کے بچوں کو بھی نہیں سمجھا سکتے ،کہی بھائی کو ہی برا نہ لگ جائے اسلیئے آج اسی وجہ سے معاشرے میں وہ گھناؤنے واقعات پیش آرہے ہیں کہ احاطہ عقل کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتے –زباں کو شرم آجائے بیان کرتے کرتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں