The news is by your side.

Advertisement

لاڑکانہ کے قیدی کی لاش اسپتال میں کئی گھنٹے بے یارو مددگار پڑی رہی

کراچی : سندھ میں سرکاری اسپتالوں کے عملے کی بے حسی کے باعث انسانی ہلاکت کی ایک اور مثال سامنے آگئی، سینٹرل جیل لاڑکانہ کا قیدی چار سرکاری اسپتالوں میں بھٹکنے کے بعد آخر کار کراچی میں دم توڑ گیا۔

اس حوالے سے جیل حکام ذرائع کا کہنا ہے کہ 62سالہ قیدی عبدالحمید کو سینٹرل جیل لاڑکانہ سے چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ بھیجا گیا تھا،

حکام کے مطابق چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال سے قیدی عبدالحمید کو بغیر کسی طبی امداد کے قومی ادارہ برائے امراض قلب سکھر بھیجا گیا تھا۔

بعد ازاں سکھر کے سول اسپتال سے بغیر کوئی دوا دیئے اور علاج کے بغیر قیدی عبدالحمید کو تشویشناک حالت میں کراچی کے جناح اسپتال کی ایمرجنسی لایا گیا تھا۔

متعلقہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں قیدی عبدالحمید 17 اکتوبر کی رات بغیر علاج کیے جان کی بازی ہار گیا۔

ذرائع کے مطابق قیدی عبدالحمید کی لاش کئی گھنٹوں تک بے یارو مددگار جناح اسپتال کی ایمرجنسی کے ڈریسنگ روم میں پڑی رہی۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر جی پی ایم سی ڈاکٹر شاہد رسول نے میڈیا کو بتایا کہ جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں قیدی کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروانے کے لئے خط لکھ رہے ہیں، سنٹرل جیل کراچی حکام کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال کے اسپیشل وارڈ میں اس وقت چار بااثر قیدی موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں