The news is by your side.

Advertisement

بچن خاندان بڑی مشکل میں‌ پھنس گیا، ایشوریہ رائے سے 6 گھنٹے تفتیش

ممبئی: بھارت میں تفتیشی ادارے نے منی لانڈرنگ اور بیرون ملک میں جائیدادیں بنانے کے معاملے پر سابق مس ورلڈ ایشوریہ رائے اور بالی ووڈ اداکارہ جیا بچن سے گھنٹوں تفتیش کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنے والے ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بچن گھرانے کی خاتون سربراہ جیا بچن اور بہو ایشوریہ رائے کو آج طلب کیا تھا۔ حکام نے بیرونِ ملک اثاثے اور آفشور کمپنیاں بنانے کے الزام میں ایشوریہ  رائے سے تقریباً 6 گھنٹے تفتیش کی۔

تفتیشی حکام نے ایشوریہ رائے کو ذاتی معلومات پر مبنی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی بعد ازاں انہیں 7 گھنٹے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

ایشوریہ رائے نے انفورسمنٹ کے ڈائریکٹر کو بتایا کہ اُن کے نام پر  ورجن آئس لینڈ کی جو آفشور جائیداد ہے وہ دراصل اُن کے شریک حیات کی ہے، جسے 2004 میں 50 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کے بعد رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔

ایشوریہ رائے نے پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد دبئی میں قائم  آفشور کمپنی بی کے آر آڈونس کے عہدیدار کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

 واضح رہے کہ آفشور کمپنی اور جائیدادیں بنانے کے الزام میں بچن خاندان کے خلاف 2017 میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے دوران تفتیشی ٹیم کو 2004 میں بیرونِ ملک منتقل کی جانے والی رقم کے شواہد بھی ملے تھے۔

ایشوریہ رائے کو اس سے قبل دو بار طلب کیا جاچکا ہے، جس کے دوران انہوں نے گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہونے والی غیرملکی ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی فراہم کیں تھیں۔

یاد رہے کہ پاناما پیپرز میں بھارت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 افراد کے نام شامل تھے، جن میں سیاسی رہنما،  اداکار، کھلاڑی، کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس معاملے کی کافی عرصے قبل تحقیقات شروع کردیں تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں