The news is by your side.

Advertisement

بولی ووڈ میں‌ نئے سال کے پہلے ہفتے کا خوف

کیا آپ جانتے ہیں کہ نئے سال کا پہلا ہفتہ بولی ووڈ کی فلموں کے لیے اچّھا ثابت نہیں‌ ہوتا۔ یہ ایسا خوف ہے کہ سال کے پہلے جمعے کو کوئی فلم نمائش کے لیے پیش نہیں‌ کرنا چاہتا۔

بھارت میں فلم سازوں کے اس وہم کی بنیاد وہ اعداد و شمار ہیں‌ جن سے ظاہر ہوتا ہے نئے سال کے آغاز پر ریلیز ہونے والی بیش تر فلمیں‌ ناکام ہوئیں۔ بولی ووڈ میں‌ مشہور ہے کہ سال کے پہلے جمعے پر ریلیز ہونے والی فلمیں‌ یا تو بری طرح فلاپ ہوتی ہیں یا پھر اچّھا بزنس نہیں کر پاتیں۔

اسے ایک وہم یا مفروضہ کہہ کر مسترد کردینا کسی کے لیے بھی بہت آسان ہے، لیکن بھاری بجٹ سے تیار کی جانے والی فلموں اور ان کی تشہیر پر خرچ کی جانے والی رقم ضایع ہونے کا خوف فلم سازوں اور کمپنیوں کو اس سے باز رکھتا ہے۔‌ فلم انڈسٹری کے بڑے فلم ساز ادارے بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں‌ اور اس حوالے سے ان اعداد و شمار کو پیش کرتے ہیں‌ جن سے واضح ہے کہ سال کے پہلے ہفتے میں ریلیز ہونے والی فلمیں اصل سرمایہ بھی نہیں‌ لوٹا سکیں۔

اگر صرف 2007ء کے بعد دس سال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گاکہ اس عرصے میں جمعے کو ریلیز ہونے والی فلموں میں صرف ’نو ون كلڈ جیسیکا‘ نے اچّھا بزنس کیا تھا، لیکن ایسی کسی فلم کو شائقین کی وہ تعداد میسر نہیں‌ آئی جس سے اخراجات پورے ہوئے ہوں۔

ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک خوف نہیں‌ بلکہ اس کے کئی اسباب بھی ہیں۔

اس کا ایک سبب نئے سال میں لوگوں کا فلموں سے زیادہ اپنے کاموں پر توجہ دینا ہے۔ دسمبر کے اختتام تک چھٹیوں کا ماحول بن جاتا ہے اور نئے سال پر لوٹنے والے کاموں پر اور اپنے کاروبار یا معاش سے متعلق نئے اہداف پر توجہ مرکوز کردیتے ہیں اور سنیما کے لیے وقت نہیں‌ نکال پاتے۔ اس کے علاوہ فلموں کی تشہیر کا عمل بھی سست روی کا شکار رہتا ہے۔

کئی بڑی فلمیں بھی ریلیز کے پہلے ہی ہفتے میں سنیما سے باہر ہوجاتی ہیں اور ہر لحاظ سے مکمل اور بھاری بجٹ کے باوجود شائقین کی توجہ حاصل نہیں‌ کر پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال کے پہلے ہفتے میں بولی ووڈ اور باکس آفس پر کوئی ہلچل اور ہنگامہ نظر نہیں آتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں