The news is by your side.

Advertisement

برازیل : خاتون پر جھوٹا الزام، عدالت نے صدر کے بیٹے کو سزا سنادی

برازیلیا : برازیل کی ایک عدالت نے صدر کے بیٹے کو خاتون صحافی پر جنسی ہراسگی کا جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق برازیل کے صدر بولسونارو جو دائیں بازو کے سیاستدان ہیں کے36سالہ بیٹے اور پارلیمنٹ کے رکن ایڈوارڈو بولسونارو نے گزشتہ برس ایک کثیر الاشاعت مقامی اخبار کی ایک خاتون صحافی پر الزام عائد کیاتھا۔

ایڈوارڈو بولسونارو کا کہنا تھا کہ خاتون صحافی پیٹریشیا میلو نے ان کے والد کے خلاف اہم معلومات تک پہنچنے کے لیے کسی کے ذریعے جنسی اشتعال دلا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

ساتھ ہی صدر کے بیٹے نے اپنے اس بیان میں اس بارے میں بھی سوال اٹھائے تھے کہ اس خاتون کا آخر ادارہ نجانے کون سا ہے اور وہ کتنی سنجیدہ صحافت کرتی ہے؟

اس الزام کے جواب میں خاتون صحافی پیٹریشیا میلو نے رکن پارلیمان ایڈوارڈو بولسونارو کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا تھا، جس پر اب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے برازیل کی عدالت نے کہا کہ ملکی صدر کے بیٹے نے خاتون صحافی پیٹریشیا میلو پر اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جنسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا جو الزام لگایا تھا وہ ایک غیر اخلاقی حرکت بھی تھی اور متعلقہ خاتون کی عزت پر کیا گیا مجرمانہ حملہ بھی تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر بولسونارو کے بیٹے اور رکن پارلیمان ایڈوارڈو بولسونارو نے نہ صرف صحافی میلو پر جھوٹا الزام لگایا بلکہ وہ ان کے لیے ہتک عزت کا باعث بھی بنے، جو ایک صحافی کے پیشے اور اس کی کارکردگی کو داغ دار کرنے کی ایک غیر اخلاقی کوشش بھی تھی۔

عدالت نے برازیلین صدر کے بیٹے کو ساڑھے پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زائد کی رقم کے برابر جرمانہ کیا ہے، جو انہیں پیٹریشیا میلو کو زر تلافی کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔

پیٹریشیا میلو برازیل کی ایک معروف اور ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی ہیں، جنہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا، ” ایڈوارڈو بولسونارو کو کیا گیا جرمانہ انصاف کا تقاضا تھا اور آج کا دن برازیل کی سیاست اور غیر جانبدار صحافت کے لیے ایک سنہرا دن ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں