The news is by your side.

Advertisement

ایک ایسا کام جس سے قیدیوں کی سزا کم ہو سکتی ہے

سوکرے: ایک وسطی جنوبی امریکی ملک میں حکام نے انوکھا پروگرام شروع کیا ہے کہ جیلوں میں قید شہریوں کی سزا کم ہو جائے گی اگر وہ کتابیں پڑھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق بولیویا دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں جیل میں کتاب پڑھنے والوں کی سزا کم کر دی جاتی ہے، یعنی قیدی کتابوں کی مخصوص تعداد پڑھ کر اپنی سزا کو کم کروا سکتا ہے۔

بولیویا میں حکومت نے اس انوکھے پروگرام کا آغاز قیدیوں کو خواندہ کرنے کے لیے کیا، اس پروگرام کا نام ‘بکس بی ہائنڈ بارز’ رکھا گیا ہے، یہ پروگرام قیدیوں کی سزا کم کر سکتا ہے تاہم اس کا اصل مقصد لوگوں کو خواندہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ بولیویا میں سزائے موت اور عمر قید کی سزا نہیں دی جاتی، تاہم وہاں عدالتی نظام نہایت سست ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو طویل عرصے جیلوں میں رہنا پڑتا ہے۔

مذکورہ پروگرام کا آغاز بولیویا کے تقریباً 47 جیلوں میں کیا جا چکا ہے، جہاں 800 سے زائد قیدی مطالعہ شروع کر چکے ہیں اور کئی افراد لکھنا بھی سیکھ چکے ہیں۔

جیل انتظامیہ کے مطابق قیدیوں میں ایک خاتون قیدی جیکولین بھی ہیں جو 8 کتابیں پڑھ چکی ہیں اور پڑھنے کے 4 ٹیسٹ بھی پاس کر چکی ہیں۔

اس منصوبے کا ہدف وہ غریب اور ان پڑھ قیدی ہیں جو کسی وجہ سے لکھ اور پڑھ نہ سکے، رپورٹس کے مطابق قیدیوں کی بڑی تعداد نے اس پروگرام میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں