The news is by your side.

Advertisement

کتب بینی: دنیا کے امیر ترین، ذہین اور قابل لوگ کیا کہتے ہیں؟

کہتے ہیں کتابیں دماغ کو روشنی، مطالعہ عقل اور ذہانت کو قوت دیتا اورعلم و آگاہی کے دیپ جلاتا ہے۔

دنیا بھرکے حکیم و دانا، عقل مند اور دانش ور پچھلے دور اور اپنے زمانے کے صاحبانِ علم و فن کی صحبت میں رہ کر ان کے علم، مشاہدات اور تجربات سے استفادہ کرنے اور کتابوں کا مطالعہ کرنے کے عادی رہے ہیں۔

موجودہ دور کی ایک مثال وارن بفٹ ہیں جو مشہور سرمایہ دار ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی اور امریکا کی متعدد قابلِ ذکر اور اہم کمپنیوں کے سربراہ بھی ہیں۔

ان کا شمار امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے، لیکن کاروباری مصروفیات اور عام ٓآدمی کے مقابلے میں روزانہ مختلف امور کی انجام دہی کے لیے بہت سا وقت دوسروں سے رابطے رکھنے پر مجبور وارن بفٹ روزانہ مطالعہ کرتے ہیں۔

کہتے ہیں انھیں کتب بینی کا شوق نہیں بلکہ وہ جنون کی حد تک مطالعے کے عادی ہیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ ان کی طرح دنیا کے کئی امیر کبیر، نہایت مصروف اور ہر لحاظ سے کام یاب لوگ کتب بینی اور ہر لمحہ کچھ نیا سیکھنے، پڑھنے اور معلومات اکٹھی کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔

یہاں ہم مطالعے کی اہمیت اور افادیت سے متعلق دنیا کی چند عظیم، اپنے شعبوں کی ممتاز اور نام ور شخصیات کے اقوال پیش کررہے ہیں۔

مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب و تدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ (بیکن)

مطالعے کی عادت اختیار کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہ ڈھونڈ لی ہے۔ (سمر سٹ ماہم)

دماغ کے لیے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لیے پانی کی۔ (تلسی داس)

جس طرح بیج کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہوجاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور کر دیتا ہے۔ (ملٹن)

دنیا میں ایک باعزت اور ذی علم قوم بننے کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ مطالعہ میں جوہرِ انسانی کو اجاگر کرنے کا راز مضمر ہے۔ (گاندھی جی)

Comments

یہ بھی پڑھیں