The news is by your side.

Advertisement

انسان کی سب سے بڑی ایجاد کیا ہے؟

اگر میں ہر ہفتے ایک کتاب ختم کروں تو میں اپنی پوری زندگی میں صرف چند ہزار کتابیں پڑھ سکوں گا۔ یہ ایک بڑی لائبریری کا ایک فی صد بھی نہیں ہوا۔ فیصلہ صرف یہ کرنا ہوگا کہ کون سی کتاب پڑھی جائے؟

کتاب کتنی عجیب چیز ہے۔ ایک درخت کی چھال سے بنی ہوئی چپٹی سی چیز جس پر مضحکہ خیز تصوریں بنی ہوئی ہیں۔ لیکن آپ اس پر ایک نظر ڈالیں تو آپ ایک دوسرے شخص کے دماغ میں پہنچ جاتے ہیں۔ ایسا شخص جو ہزاروں سال پہلے مر چکا ہے۔ صدیوں کا فاصلہ ہونے کے باوجود وہ بالکل واضح لفظوں میں آپ سے مخاطب ہو جاتا ہے۔

تحریر شاید انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے۔ یہ ان انسانوں کو ایک دوسرے سے ملا دیتی ہے جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ یہ مختلف دور کے باشندوں سے روشناس کرا دیتی ہے۔

کتاب وقت کی زنجیروں کو توڑ دیتی ہے۔ کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان بھی کمال کر سکتا ہے۔ لائبریریوں کے کمرے ان کمالات سے بھرے ہوئے ہیں۔

اسکندریہ کی لائبریری قائم ہوئے 2300 سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران تقریباً سو نسلیں پیدا ہوکر مر چکی ہیں۔ اگر علم صرف زبان کے ذریعے سے دوسروں کو منتقل ہوتا تو ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں کتنا کم علم ہوتا۔ ہماری ترقی کی رفتار کتنی سست ہوتی۔ ہر چیز اس پر منحصر ہوتی کہ ہمیں کیا بتایا گیا ہے اور وہ کس حد تک درست ہے۔ قدیم علم لوگوں تک پہنچتے پہنچتے بدلتا رہتا اور آخر کار ضائع ہو جاتا۔

کتابیں ہمیں وقت میں سفر کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ لائبریری پورے پورے سیّارے اور پوری پوری تاریخ کے عظیم ذہنوں اور عظیم استادوں سے ہمارا رشتہ جوڑ دیتی ہے۔ اور انسانی نسل کے اجتماعی شعور میں اپنا حصّہ بٹانے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تہذیب کی صحّت ہمارے شعور کی گہرائی اور مستقبل کے بارے میں ہمارا تجسّس کا امتحان اس سے ہوتا ہے کہ ہم اپنی لائبریریوں کو کیسے رکھتے ہیں۔
ایک وقت کے عام کھانے کی قیمت میں آپ روم کے عروج و زوال کا مزہ لے سکتے ہیں۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں۔ یہ ہمارے genes سے دماغ تک اور دماغ سے کتابوں تک کے لمبے ارتقائی سفر کی گواہ بھی ہیں۔

دماغ رات کو بھی اطلاعات جذب کرنے اور تقسیم کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ اطلاعات اسے زندہ رکھتی ہیں اور وہ صلاحیت مہیا کرتی ہیں جو بدلتے ہوئے حالات میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انسان کا genes سے دماغ اور دماغ سے کتابوں تک کا سفر جاری ہے۔

(کارل ساگان کی کائنات (cosmos) نامی تصنیف سے اقتباس جس کے مترجم منصور سعید ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں