The news is by your side.

Advertisement

انسانی حقوق کی کونسل اسرائیل کے خلاف متعصبانہ رویہ ترک کردے، بورس جانسن

جینیوا : برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ایجنڈے پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایجنڈا اسرائیل کے خلاف تعصب مبنی ہے، کونسل اسرائیل کے خلاف متعصبانہ سلوک ترک کردے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں برملا اسرائیل کی حمایت شروع کردی، برطانیہ نے مطالبہ کیا ہے انسانی حقوق کی کونسل اسرائیل کے خلاف متعصبانہ رویے کو ترک کردے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کی کونسل کے اڑتیسویں اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے بنائے گئے ایجنڈے کو متنازع قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ ایجنڈے میں محض اسرائیل اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر توجہ دی گئی ہے جو امن کے نصب العین کے لیے خطرناک اور غیر متناسب ہے۔ جب تک چیزیں بدل نہیں جاتیں برطانیہ مذکورہ ایجنڈے کے تحت متعارف کروائی جانے والی تمام قراردادوں کے خلاف ووٹ دے گا‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کونسل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو حل کروانے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم کونسل کے اجلاس میں ایجنڈے کے آئیٹم سات کے تحت صرف فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے کی گئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہی بات کی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکا سمیت کچھ یورپی ممالک اور آسٹریلیا نے بھی انسانی حقوق کے اجلاس کے ایجنڈے کے آئیٹم سات کو اسرائیلی ریاست کے خلاف متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ چند برس میں اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی انسانی حقوق کو بڑے پیمانے پر پامال کیا ہے، جس میں شام صف اوّل میں شامل ہے لیکن ان کا ذکر کہیں ذکر نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایجنڈے کے آئیٹم سات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مذکورہ ایجنڈے کو ختم نہ کرنے پر کونسل سے نکلنے کی دھمکی دی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں