The news is by your side.

Advertisement

انتخابات جیتنے کے باوجود بورس جانسن کی مشکلات کم نہ ہو سکیں

لندن: انتخابات جیتنے کے باوجود برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، ہاؤس آف لارڈز میں ان کی خواہشات کے برعکس ایک ڈیل طے ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنا تو ایک طرف بورس جانسن کو برطانیہ میں یورپی باشندوں کے رہایشی حقوق کے حوالے سے تجویز بھی برطانوی امرا کو پسند نہ آئی اور انھوں نے دارالامرا میں یورپی باشندوں کو برطانیہ میں رہایشی برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔

بورس جانسن کی قرارداد میں اپوزیشن کی ترمیم کے حق میں 270، جب کہ مخالفت میں 229 ووٹ پڑ گئے، اس ترمیم کی منظوری کے بعد یورپی باشندے بریگزٹ کے بعد بھی برطانیہ میں رہ سکیں گے، خیال رہے کہ بورس جانسن کی جماعت کو ہاؤس آف لارڈز میں اکثریت حاصل نہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی بریگزٹ ڈیل منظور کرلی

یاد رہے کہ دس جنوری کو برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم بورس جانسن کی بریگزٹ ڈیل منظور کر لی تھی جس کے بعد برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی راہ ہموار ہو گئی۔ بریگزٹ ڈیل کی حمایت میں 330 ارکان نے ووٹ دیے جب کہ 231 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیے، جس کے بعد اسپیکر نے ڈیل کی منظوری کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے انتخابات میں کام یابی کے بعد کہا تھا کہ عوام نے یہ مینڈیٹ یورپی یونین سے نکلنے کے لیے دیا ہے، برطانیہ آیندہ ماہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں