The news is by your side.

Advertisement

وہ 5 بالرز جنھوں‌ نے کبھی نو بال نہیں‌ کی

کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں 5 ایسے عظیم بالرز ہیں جنھوں نے اپنے پورے ٹیسٹ اور ون ڈے کیریئر میں کبھی ایک نو بال بھی نہیں کرائی۔

کرکٹ کے کھیل میں بالرز کے لیے پاپنگ کریز سے تجاوز کرنا ایک عام سی بات ہے، اس سے مخالف ٹیم کو ٹیسٹ میچوں میں ایک اضافی رن اور محدود اوورز کے فارمیٹ میں ایک رن اور فری ہٹ مل جاتا ہے۔

فری ہٹ کے آغاز کے بعد سے بالرز نو بال کے حوالے سے بہت محتاط ہو گئے ہیں، وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ایک نو بال ان کے لیے پورا اوور برباد کر سکتی ہے۔

دنیائے کرکٹ میں چند ایسے بالرز ہیں جنھوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نو بال نہ کرانے کا ناممکن اور ناقابل تصور کام کیا ہے، کسی ایک میچ یا چند میچوں کے لیے پاپنگ کریز سے تجاوز نہ کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن پورے کیریئر میں یہ کارنامہ انجام دینا ایک بڑی کامیابی ہے۔

کچھ لیجنڈز نے اس فہرست میں اپنا نام درج کرایا ہے، آئیے ان پانچ بالرز پر ایک نظر ڈالتے ہیں جنھوں نے کبھی ٹیسٹ اور ون ڈے میں ایک بھی نو بال نہیں کرائی۔

ایئن بوتھم

انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر ایئن بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے۔ انھوں نے ٹیسٹ میں 383 وکٹیں اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بوتھم نے انگلینڈ کے لیے جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کے بعد تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ گیندیں کی ہیں، جو کہ 28,086 ہیں۔ ان کا کیریئر 16 سال پر محیط تھا لیکن اس تمام عرصے میں انھوں نے ایک بھی نو بال نہیں کرائی۔

ڈینس للی

ٹیسٹ تاریخ میں آسٹریلیا کے لیے چوتھے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بالر، ڈینس للی نے اپنے ملک کے لیے 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے کھیلے۔ ٹیسٹ میچوں میں للی نے 23.92 کی اوسط سے 355 وکٹیں حاصل کیں اور 7/83 کی بہترین بالنگ کی۔ دائیں ہاتھ کے اس فاسٹ بالر نے نے 132 ٹیسٹ اننگز میں 18,467 گیندیں اور ون ڈے کی 63 اننگز میں 3593 گیندیں کیں، لیکن ایک بھی نو بال نہیں کرائی، انھیں اب تک کے سب سے بڑے فاسٹ بالرز میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

کپل دیو

بھارت کے اب تک کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک کپل دیو نے اپنے 16 سالہ طویل بین الاقوامی کیریئر میں کبھی پاپنگ کریز سے تجاوز نہیں کیا۔ انھوں نے انیل کمبلے اور ہربھجن سنگھ کے بعد بھارت کے لیے تمام فارمیٹس میں تیسری سب سے زیادہ گیندیں پھینکیں، جو کہ 38،942 ہیں، اور کوئی ایک بھی نو بال نہیں کی۔ کپل نے 356 میچوں اور 448 اننگز میں 28.83 کی اوسط سے 687 وکٹیں حاصل کیں۔

عمران خان

پاکستان کے سابق کپتان عمران خان ایک اور عظیم آل راؤنڈر ہیں جو اس فہرست میں شامل ہیں۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بالر نے 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلے، انھوں نے ٹیسٹ میچوں میں 22.81 کی اوسط سے 362 وکٹیں اور ون ڈے فارمیٹ میں 26.61 کی اوسط سے 182 وکٹیں حاصل کیں۔

تمام فارمیٹس میں عمران نے پاکستان کے لیے دوسرے دو عظیم کھلاڑیوں وقار یونس اور وسیم اکرم کے بعد تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ گیندیں کیں جو کہ 26،919 ہیں۔ 263 میچوں اور 295 اننگز میں انھوں نے کسی بھی فارمیٹ میں نو بال نہیں کرائی۔

عمران نے اپنا ڈیبیو 1971 میں کیا اور آخری بار بین الاقوامی کرکٹ میں 1992 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں نظر آئے جہاں انھوں نے اپنی ٹیم کو ٹائٹل تک پہنچایا۔ اپنے 21 سالہ طویل کیریئر میں عمران نے کبھی بھی پاپنگ کریز سے تجاوز نہیں کیا۔

کپل دیو کی طرح عمران نے بھی اپنے ملک کے لیے ورلڈ کپ جیتا کیوں کہ دونوں آل راؤنڈرز نے بھی نو بال نہ پھینکنے پر تاریخ کی کتابوں میں اپنا نام لکھوایا۔ مذکورہ چار ناموں کی طرح عمران نے بھی فاسٹ بالر ہوتے ہوئے یہ سنگ میل حاصل کیا جو کافی مشکل کام ہے۔

لانس گبز

یہ اس فہرست میں واحد اور آخری بالر ہیں جو اسپنر ہیں، ویسٹ انڈیز کے سابق اسپنر لانس گبز 79 ٹیسٹ میچوں اور تین ون ڈے میچوں میں نظر آئے، انھوں نے 148 اننگز میں 309 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں، جو ویسٹ انڈیز کے بالر کی چوتھی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

تین ایک روزہ میچوں میں گبز نے صرف 2 وکٹیں حاصل کیں، انھوں نے سال 1958 میں ٹیسٹ میں اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کیا اور آخری بار 1976 میں ٹیسٹ میچ میں نظر آئے۔

گبز نے 27، 271 گیندیں کیں، جو کہ ویسٹ انڈیز کے باؤلر کے لیے کورٹنی والش اور کرٹلی ایمبروز کے بعد تمام فارمیٹس میں تیسرے نمبر پر ہیں، دائیں ہاتھ کا آف بریک بالر ٹیسٹ میں 300 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے والا پہلا اسپنر ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بالرز میں سے ایک، گبز نے دونوں فارمیٹس میں 151 اننگز میں 27، 271 گیندیں پھینکیں اور ایک بھی نو بال نہیں کرائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں