The news is by your side.

Advertisement

رنگ کے کنگ عظیم باکسر “محمد علی ” کو بچھڑے پانچ برس بیت گئے

رنگ کے کنگ عظیم ہیوی ویٹ باکسر محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے، مداح آج ان کی پانچویں برسی منارہے ہیں۔

لیجنڈ باکسر محمد علی سترہ جنوری 1942 کو امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لوئی ویل کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے، اپنے والد کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے کہلائے تاہم 1960 میں 18 برس کی عمر میں انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھا۔

محض بارہ سال کی عمر میں محمد علی نے ایک مقامی جمنازیم میں اپنے باکسنگ کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1960 سے 1963 تک انیس مقابلے کھیلے اور سب میں فتح حاصل کی، اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے 1960 کے اولمپک مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا۔

بائیس سالہ محمد علی نے 1964 میں دنیائے باکسنگ کے خطرناک ترین کھلاڑی سونی لسٹن کو شکست دے کر بے پناہ شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اپنے 20 سالہ باکسنگ کیرئیر میں 56 مقابلے جیتے۔ 37 مقابلوں میں حریف کھلاڑی کو ناک آؤٹ کیا۔

انیس سو چہتر میں انہوں نے جارج فورمین کو شکست دے کر 32 سال کی عمر میں باکسنگ کا عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا، 36 سال کی عمر میں محمد علی نے اسپنکس کو شکست دے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔

انتالیس سال کی عمر میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، انہوں نے اداکاری اور گلوکاری کے شعبے میں بھی کام کیا۔ اپنی زندگی پر دو کتابیں بھی لکھیں۔

چاربرس قبل آج ہی کے روز سانس لینے میں دشواری کے باعث انہیں اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں 74 سالہ سابق امریکی باکسر محمد علی دوران علاج اپنے اہل خانہ اور مداحوں غمگین کرگئے۔

لیجنڈ باکسر محمد علی موت سے قبل تین دہائیوں سے پارکنسن سمیت متعدد امراض کا شکار تھے، محمد علی لیجنڈ باکسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درد مند انسان بھی تھے اور معاشرے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سراپا احتجاج رہتے تھے۔

سنہ 1959 سے 1975 تک لڑی جانے والی ویت جنگ میں امریکی افواج میں شامل کرنے کے لیے محمد علی سے عہد نامے پر دستخط لینے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا، جس کے باعث امریکی حکومت نے ان سے اولمپک چیمپئن شپ کے اعزازات واپس لے کر 5 برس کے لیے جیل منتقل کردیا تھا۔

محمد علی زندگی کو ایک مثبت نظر سے دیکھنے کے عادی تھے۔ آج ان کی برسی کے موقع پر ان کے زریں خیالات و اقوال یقیناً آپ کی زندگی بدلنے میں مددگار ثابت ہوسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوستی ایسی چیز نہیں جو آپ کسی تعلیمی ادارے میں سیکھیں، بلکہ اگر آپ نے دوستی کے صحیح معنی نہیں سیکھے، تو آپ نے کچھ نہیں سیکھا۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنی ٹریننگ کا ہر لمحہ برا لگتا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے رکنا نہیں چاہیئے، میں ابھی تکلیف اٹھاؤں گا تو ساری زندگی چیمپئن کہلاؤں گا۔

وہ کہتے تھے کہ جو شخص مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا وہ کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکتا, اگر تم مجھے ہرانے کا خواب بھی دیکھو، تو بہتر ہے کہ تم جاگ جاؤ اور اپنے اس خواب کی معافی مانگو۔

لیجنڈ باکسر نے ایک موقع پر کہا کہ قوم آپس میں جنگیں نقشوں میں تبدیلی لانے کے لیے لڑتی ہیں لیکن غربت سے لڑی جانے والی جنگ زندگیوں میں تبدیلی لاتی ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کیں، لیکن اگر میں اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کی زندگی بھی بہتر کرنے میں کامیاب رہا تو میری زندگی رائیگاں نہیں گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو شخص خواب نہیں دیکھتا، وہ کبھی بھی اونچا نہیں اڑ سکتا، کاش کہ لوگ دوسروں سے بھی ویسے ہی محبت کرتے جیسے وہ مجھ سے کرتے ہیں، اگر وہ ایسا کریں تو دنیا بہت خوبصورت ہوجائے گی۔

ویت نام کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرنے کے بعد محمد علی نے کہا، ’یہ مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ میں یونیفار پہن کر اپنے گھر سے 10 ہزار میل دور جاؤں، اور کالوں پر گولیاں اور بم برساؤں؟ یہ تو اپنے ہی ملک میں نیگرؤوں سے کتوں جیسا سلوک کرتے ہیں‘۔

محمد علی کا زندگی کے بارے میں خیال تھا کہ انسان کی زندگی بہت چھوٹی ہے، ہم بہت جلدی بوڑھے ہوجاتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ یہ ایک احمقانہ بات ہے کہ ہم لوگوں سے نفرت کرنے میں اپنا وقت ضائع کردیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں