The news is by your side.

فلموں‌ کے بائیکاٹ سے بالی ووڈ انڈسٹری پر اثرات، اہم انکشاف

لکھنؤ: بھارت میں فلموں کی ریلیز سے قبل سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کا ٹرینڈ عام ہو گیا ہے، تاہم ایک ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ مہم سے فلم انڈسٹری پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں سنیما گھروں کے باہر احتجاج اور فلموں کے پوسٹر پھاڑنا معمول بن چکا ہے، اور فلموں کو خاص نظریے سے دیکھا جانے لگا ہے۔

اس سلسلے میں بالی ووڈ فلم ڈائریکٹر شعیب چودھری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ فلم انڈسٹری پر بائیکاٹ مہم سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ کرونا وبا کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں فلم دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنیما گھروں میں اب فلم ریلیز ہونے کے بعد ماضی کی طرح بھیڑ نہیں لگتی۔

شعیب چودھری نے کہا سماج میں فلموں کو دو خانوں میں تقسیم کر کے ایک خاص نظریہ قائم کیا جاتا ہے، حالاں کہ ایک فن کار ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر اپنی فن کاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ان کی کئی فلمیں ایسی ہیں جن کی شوٹنگ رمضان میں ہوئی اور شوٹنگ کا آغاز گنیش پوجا سے ہوا، اور پھر شام کے وقت سب نے ایک ساتھ افطار کیا، اس لیے فلموں کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرنا غلط ہے۔

فلم کشمیر فائل کی مقبولیت کے حوالے سے انھوں نے کہا ’ہم نے دیکھا کہ سینما گھروں کے باہر دائیں بازو کی جماعتوں کے کارکنان نے ٹکٹ خرید کر کے تقسیم کیے، یہی وجہ ہے کہ یہ فلم بہت مقبول ہوئی۔‘

پاکستان اور ہندوستان کے اداکاروں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی سطح پر دونوں ملک آپس میں کرکٹ میچ کھیل سکتے ہیں، انوپم کھیر اپنی فلم کی پروموشن پاکستان میں کر سکتے ہیں، دیگر تمام کام ہو رہے ہیں، تو بالی ووڈ انڈسٹری کے اداکار اور فن کار پاکستان کیوں نہیں جا سکتے یا پاکستان کے فن کار بھارت میں کام کیوں نہیں کر سکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں