The news is by your side.

Advertisement

امریکا، پانی میں نیگلیریا کی موجودگی، شہریوں کو خبردار کردیا گیا

ٹیکساس: امریکی ریاست ٹیکساس کے لیک جیکسن علاقے میں شہر کو مہیا کیے جانے والی سپلائی کے پانی میں دماغ کھانے والا مہلک نیگلیریا جرثومہ پایا گیا ہے جس کے بعد شہریوں کو پانی کے استعمال سے متعلق خبردار کردیا گیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے لیک جیکسن علاقے میں پانی کے نمونوں کے مختلف قسم کے ٹیسٹ کرنے کے بعد پانی میں نیگلیریا کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، یہ جرثومہ انتہائی مہلک اور دماغ میں انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

لیک جیکسن کے حکام کے مطابق وہ پانی کی سپلائی کو جراثیم کش ادویات سے صاف کررہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کی 8 کمیونٹیز کو بتایا گیا تھا کہ وہ ٹوائلٹ فلش کے علاوہ کسی بھی اور مقصد کے لیے سپلائی والے پانی کا استعمال نہ کریں، اگلے دن باقی تمام علاقوں کے لیے یہ تنبیہ واپس لے گئی تھی سوائے لیک جیکسن کے جہاں 27 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔

بعدازاں لیک جیکسن کے حکام کا کہنا تھا کہ لوگ پانی کا استعمال شروع کرسکتے ہیں لیکن اسے پینے سے قبل ابال ضرور لیں، رہائشیوں کو جن دیگر اقدامات کے متعلق بتایا گیا ان میں نہاتے وقت پانی اپنی ناک تک نہ جانے دینا بھی شامل ہے۔

حکام نے متنبہ کیا کہ بچوں، بوڑھوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو خاص طور پر اس سے خطرہ ہے، پانی کے نظام کو صاف کیا جارہا ہے اور پھر پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ لیں گے تاکہ پانی کا استعمال محفوظ بن سکے۔

سٹی منیجر موڈیسٹو منڈو کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کے شروع میں ایک چھ سالہ بچے کی نیگلیریا سے موت ہوئی تھی جس کے بعد شہر میں پانی کی سپلائی کی تحقیقات کا آغاز ہوا تھا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں نیگلیریا قدرتی طور پر میٹھے پانی میں پایا جاتا ہے، عام طور پر یہ لوگوں کو تب متاثر کرتا ہے جب آلودہ پانی ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر دماغ تک سفر کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں