The news is by your side.

Advertisement

ساؤ پالو کی مساجد، اسلامی مرکز اور مسلمان میئر

ساؤ پالو میں قیام کے دوران ہم نے شہر کی بعض مساجد بھی دیکھیں جو ماشاء اللہ بڑی عالی شان تھیں، ان کے مینار دور سے نظر آتے ہیں اور نمازیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہوتی ہے۔

نمازِ جمعہ ہم نے مسجد ابوبکر صدیق میں پڑھی جو اسی محلّے میں واقع ہے جہاں ہمارا قیام تھا۔ یہاں ایک مصری شیخ نے عربی میں اچھا خطبہ دیا۔ اسی مسجد کے ساتھ ایک اسلامی مرکز بھی قائم ہے، بچوں کی تعلیم کا بھی انتظام موجود ہے، ایک مسلمان طعام گاہ بھی ہے اور مسلمانوں کی ضروریات کی ایک دُکان بھی۔

علی الصیفی (میزبان) صاحب نے ہمیں ساؤپالو کی سیر بھی کروائی۔ ساؤ پالو بحرِ اوقیانوس کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔ ساحل کے ساتھ ساتھ سرسبز پہاڑوں کا ایک طویل سلسلہ دور تک چلا گیا ہے، ان پہاڑوں کے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف ان کے دامن میں قدرتی جھیلیں، چھوٹے چھوٹے آبشار اور خود رو درختوں کے گھنے جنگل پھیلے ہوئے ہیں جن میں آم، کیلے اور کئی مقامی پھلوں کے خود رَو درخت بھی شامل ہیں۔

آم کے درخت یہاں خود رو ہیں، اور آموں سے لدے ہوئے درخت جگہ جگہ، یہاں تک کہ سڑکوں پر بھی نظر آتے ہیں۔ یہ پورا علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے جس کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم ساؤ پالو کی بندر گاہ سانتوز (Santos) سے گزرے جو جنوبی امریکا کی سب سے بڑی بندرگاہ شمار ہوتی ہے۔

یہاں ایک چھوٹا ساشہر آباد ہے جس میں ایک مسجد بھی ہے۔ پھر آگے ایک اور چھوٹا سا شہر کیوباٹاؤ (Cubatao) آیا جہاں گیس کے کنویں اور تیل صاف کرنے کی فیکٹریاں ہیں اور اُس کی وجہ سے یہاں فضا میں تیل اور گیس کی بو بسی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی اسی شہر میں پائی جاتی ہے۔

پھر علی الصیفی صاحب ہمیں ایک خوب صورت ساحلی شہر میں لے گئے جس کا نام گواروجا (Guaruja) ہے اور اس کا ’میئر‘ بھی ایک مسلمان ہے۔ یہ شہر بحرِ اوقیانوس کے ایک دلآویز ساحل پر آباد ہے جہاں سمندر سرسبز پہاڑیوں سے کھیلتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں اس وقت موسمِ بہار کی آمد آمد تھی اور جگہ جگہ سے سبزہ پھوٹا پڑ رہا تھا۔ ان پرسکون قدرتی نظاروں میں کچھ دیر کے لیے سفر کی تھکن کافور ہو گئی۔

ساؤ پالو (جس کا تلفّظ یہاں کے لوگ سوں پالو) کرتے ہیں، برازیل کا سب سے بڑا تجارتی شہر سمجھا جاتا ہے اور پورے جنوبی امریکا میں سب سے بڑا صنعتی مرکز بھی۔ اس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کی بنیاد 1554ء کو عیسائی مُبلّغوں نے رکھی تھی۔

(مفتی محمد تقی عثمانی کے لاطینی امریکا کے ایک سفرنامے سے انتخاب، جس میں انھوں نے برازیل میں‌ اپنے قیام اور سیر و سیّاحت کا تذکرہ کیا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں