The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ: برازیلین صدر کھانستے ہوئے مظاہرین سے خطاب کرتے رہے

برازیلیا: جنوبی امریکی ملک برازیل کے صدر لاک ڈاؤن کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے لیے پہنچ گئے، مظاہرین سے خطاب کے دوران وہ مستقل کھانستے رہے جس سے مجمع پریشان ہوگیا۔

برازیل کے صدر جیر بولزونرو ملک میں کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے سخت خلاف ہیں، وہ کرونا وائرس کو نزلے کی ایک قسم قرار دے رہے ہیں اور اس بات کا پر سیخ پا ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچ رہا ہے۔

تاہم مقامی گورنرز نے ان کی بات کو مکمل نظر انداز کر کے اپنی ریاستوں میں مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔

صدر کی شہ پا کر لاک ڈاؤن کے خلاف ہزاروں برازیلی شہری سراپا احتجاج ہیں اور ان کے مظاہروں میں اس وقت مزید شدت آگئی جب خود صدر بھی ان مظاہروں میں پہنچ گئے۔

مظاہرین نے دارالحکومت میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کیا اور اس دوران نعرے لگائے کہ فوج صدر کے ساتھ مل کر مداخلت کرے اور ملک میں جاری لاک ڈاؤن ختم کروائے۔

صدر کا فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرین کی قیادت کرنا اس لیے بھی متنازعہ بن گیا کہ وہ برازیل میں 1964 سے 1985 کے دوران کی فوجی آمریت کی کھلے لفظوں میں حمایت کرتے رہے ہیں۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے برازیلین صدر مستقل کھانستے رہے جس نے مظاہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک گیر پابندیاں ان کے مرضی کے خلاف لگائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض گورنرز اور میئرز جو حرکتیں کر رہے ہیں وہ جرم ہے۔ انہوں نے برازیل کو تباہ کردیا ہے۔

برازیلین صدر اس وبا کے آغاز سے ہی اسے سنجیدہ لینے کو تیار نہیں ہیں، وہ گزشتہ ہفتے اپنے وزیر صحت سے سماجی فاصلے کے اقدامات پر بحث و تکرار کے بعد وزیر کو برطرف کر چکے ہیں۔

ساؤ پاؤلو کے گورنر پر انہوں نے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاست میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کو بڑھا چڑھا کر بتا رہے ہیں۔

اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں وہ کہہ چکے ہیں کہ جن لوگوں کو مرنا ہے وہ ہر صورت مریں گے، یہی زندگی ہے۔

خیال رہے کہ برازیل میں اب تک کرونا وائرس کے 38 ہزار 654 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ ملک بھر میں اب تک وائرس سے 2 ہزار 462 اموات ہوچکی ہیں۔

کرونا وائرس کا شکار افراد میں برازیل کے 2 ریاستی گورنرز بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں