سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کے خلاف احتجاج، سینکڑوں مظاہرین گرفتار supreme-court-protest
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کے خلاف احتجاج، سینکڑوں مظاہرین گرفتار

واشنگتن : سپریم کورٹ کے لیے متنازعے جج بریٹ کیوانوف کی نامزدگی کے فیصلے پر دارالحکومت واشنگٹن سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، پولیس نے 302 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سپریم کورٹ کے لیے متنازعے جج کی نامزدگی کے فیصلے پر دارلحکومت واشنگٹن سمیت کئی شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔

امریکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزد جج بریٹ کیوانوف پر خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ہے۔

امریکا کی حکمران جماعت ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکا کے سیکیورٹی ادارے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی سپریم کورٹ کے لیے نامزد جج بریٹ کیوانوف پر عائد جنسی ہراسگی کے الزامات کو خارج کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے پانچ روز میں جنسی ہراسگی کیس کی تحقیقات کی ہیں جو نامکمل ہیں کیوں کہ وایٹ ہاوس کی جانب سے اسے محدود کیا گیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سینیٹ جمعے (آج) کے روز نامزد جج کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کرے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جج بریٹ کیوانوف سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تعینات ہونے کے لیے سینیٹ کے مکمل ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے لیکن ری پبلیکن پارٹی کے دو سینیٹر نے ایف بی آئی کی تفتیش کے دوران بہتر انداز میں حمایت نہیں پائے۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جمعرات کے (گذشتہ) روز دارالحکمومت واشنگٹن میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے جج کیوانوف کی نامزدگی کے خلاف ریلی نکالی تھی جس کا آغاز اپیل کورٹ سے ہوا تھا جہاں بریٹ کیوانوف تاحال تعینات ہیں اور اختتام سپریم کورٹ کے سامنے ہوا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے سینیٹ آفس کی عمارت میں داخل ہونے والے 302 مظاہرین کو حراست میں بھی لیا تھا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کے فیصلے گذشتہ روز امریکی شہر نیویارک میں ٹرمپ ٹاور کے سامنے بھی شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل بریٹ کیوانو پر کچھ روز قبل ایک خاتون پروفیسر نے جنسی طور پر ہراساں کرنے الزام لگایا تھا، جس کے بعد ایف بی آئی نے نامزد جج بریٹ کیوانوف کیخلاف تحقیقات شروع کردی تھی۔

ڈاکٹر کرسٹین بلیسی فورڈ کا کہنا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں بریٹ کیوانوف نے 36 برس قبل سنہ 1980 میں ایک تقریب کے دوران شراب نوشی کی کثرت کے باعث مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں