یورپین لیڈرزسمٹ: تھریسا مے کےلیے آئندہ 48 گھنٹے مشکل -
The news is by your side.

Advertisement

یورپین لیڈرزسمٹ: تھریسا مے کےلیے آئندہ 48 گھنٹے مشکل

لندن: بریگزٹ کے معاملے پر یورپین لیڈرز کے سمٹ میں صرف اڑتالیس گھنٹے رہ گئے،برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کوشش کررہی ہیں کہ اس معاملے پر انہوں زیادہ سے زیادہ وزراء کی حمایت حاصل رہے۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں انہوں نے ممبرانِ پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ شمالی آئرلینڈ کے بارڈر کے مسئلے پر ڈیڈ لاک کے باوجود اس معاملے پر معاہدے کے امکانات تاحال موجود ہیں۔

دوسری جانب یورپین یونین کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے اخراج کے بعد کسی بھی قسم کی ڈیل نہ ہونے کے امکانا ت ماضی کی نسبت آج کئی گنا زیادہ ہیں۔ یورپین لیڈرز کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوگا جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کسی متفقہ معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

یاد رہے کہ برطانیہ آئندہ سال مارچ میں یورپین یونین سے انخلا کرے گا ۔ امید کی جارہی ہے کہ کل ہونے والے اجلاس میں یورپین لیڈر متفق ہوجائیں گے کہ اس معاملے پر اس حد تک اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں ، اور نومبر میں ایک خصوصی بریگزٹ سمٹ طلب کرکے علیحدگی کی اس ڈیل کو حتمی شکل دے دی جائے۔

تاہم اس امید کو ابھی آئرش بارڈر تنازعے کے سبب کئی خدشات لاحق ہیں جس کا ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ تھریسا مے کو امید ہے کہ معاملے کے دونوں فریق اب اس تنازعے کے حل سے زیادہ دور نہیں ہیں اور محض ایک بارڈر کے تنازعے کے سبب اس سارے عمل کو واپس نہیں کیا جاسکتا ۔

تھریسا مے کے اجلاس سے خطاب کے موقع پر انہیں کابینہ ارکان کی جانب سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ، اور ان پر آوازیں بھی کسی جاتی رہیں ، تاہم انہوں نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

دو ہفتے قبل برطانوی وزیر خزانہ فلپ ہمونڈ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین بریگزٹ معاملے پر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور وہ ڈیل کے لیے بھی آمادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بریگزٹ معاملے پر یورپ اور برطانیہ کے تناؤ کے باعث برطانوی معیشت بھی متاثر ہورہی ہے، اس بابت اقدامات کی ضرورت ہے۔

برطانوی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ متعدد سرمایہ کار بریگزٹ ڈیل کے نتائج کے منتظر ہیں، جوں ہی یہ ڈیل طے پا جائے گی، برطانوی اقتصادیات میں ترقی دیکھی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ما ہ آسٹریا میں یورپی سربراہی اجلاس ہوا تھا، جس میں یورپ اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ معاملے پر اختلافات اور تناؤ بدستور برقرار رہا تھا ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ بریگزٹ سے برطا نیہ کو نقصان ہوگا ۔ انہوں نے عندیہ تھا کہ بریگزٹ کے بعد امریکا یورپی یونین سےتجارت کرے گا اور برطانیہ کو امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات از سرِ نو استوار کرنا ہوں گے ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں